نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان کا مؤقف آبنائے ہرمز کے حوالے سے واضح ہے اور اس اہم سمندری راستے سے گزرنے والے جہازوں پر کسی قسم کی فیس یا اضافی چارجز عائد نہیں ہونے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے بحری ٹریفک بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہے اور جہاز دونوں سمتوں میں معمول کے مطابق سفر کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ راستہ عالمی توانائی اور تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کے مطابق اس اہم گزرگاہ میں کسی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، اس لیے اس کی آزادانہ نقل و حرکت ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھانے میں فعال کردار ادا کیا ہے اور خطے میں سفارتکاری کے ذریعے امن کی کوششوں کی حمایت کی ہے۔
نائب وزیراعظم کے مطابق بعض عناصر نے مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی، تاہم پاکستان نے تمام فریقوں کو تحمل اور برداشت کا مشورہ دیا ہے تاکہ امن کا عمل جاری رہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے مختلف علاقائی اور عالمی ممالک کے ساتھ رابطے بڑھائے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ مسائل کا حل صرف مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے ممکن ہے۔
انہوں نے ایک بار پھر زور دیا کہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ گزرگاہ عالمی تجارت اور توانائی کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔