انڈس واٹرز معاہدہ تنازع ایک بار پھر عالمی سطح پر سامنے آ گیا ہے جب پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت پر دباؤ ڈال کر 1960 کے آبی معاہدے کو بحال کروایا جائے۔ یہ معاملہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا رہا ہے۔
پاکستان نے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا خط اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر کو پیش کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ بھارت کے اقدامات سے لاکھوں افراد کے لیے شدید آبی، ماحولیاتی اور انسانی خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔
انڈس واٹرز معاہدہ تنازع کا مرکز بھارت کا وہ فیصلہ ہے جس کے تحت اس نے Indus Waters Treaty کو معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان نے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے فوری بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔
پاکستانی نمائندے نے اقوام متحدہ میں مؤقف اپنایا کہ بھارت کو بین الاقوامی قانون کے اصول pacta sunt servanda کے مطابق معاہدوں کی پاسداری کرنی چاہیے۔
Ambassador Asim Iftikhar Ahmad, Permanent Representative of Pakistan to the UN, today handed over a letter addressed by Deputy Prime Minister/Foreign Minister @MIshaqDar50 to the President of the UN Security Council, Ambassador Jamal Fares Alrowaiei of Bahrain.
The letter draws… pic.twitter.com/JRNhsPpfc6
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) April 23, 2026
پاکستان نے یہ بھی کہا کہ بھارت کی جانب سے بے بنیاد الزامات اور پروپیگنڈا ان اقدامات کو جواز دینے کی کوشش ہے، جو انڈس واٹرز معاہدہ تنازع کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔
مزید کہا گیا کہ خطے میں عدم استحکام کی بڑی وجہ مسئلہ کشمیر ہے، جس کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق نکالنا ضروری ہے تاکہ دیرپا امن قائم ہو سکے۔
انڈس واٹرز معاہدہ تنازع اس وقت مزید سنگین ہو گیا جب 2025 میں کشیدگی کے بعد بھارت نے معاہدے پر تعاون روک دیا۔ پاکستان کے مطابق یہ صورتحال زرعی نظام اور پانی کی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ہے۔