پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے دوران نمایاں تیزی دیکھنے میں آئی، جہاں بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 6,118 پوائنٹس اضافے کے بعد 173,962 پوائنٹس پر بند ہوا۔ ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کی خبروں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا۔
ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق پورے ہفتے سرمایہ کاروں کی دلچسپی برقرار رہی اور مختلف شعبوں میں خریداری کا رجحان دیکھا گیا۔ عالمی سطح پر کشیدگی میں ممکنہ کمی کی توقعات نے بھی مارکیٹ کے مثبت رجحان کو تقویت دی۔
کاروباری ہفتے کے دوران پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا 100 انڈیکس 3,944 پوائنٹس کے بینڈ میں رہا۔ انڈیکس کی بلند ترین سطح 174,106 پوائنٹس جبکہ کم ترین سطح 170,161 پوائنٹس ریکارڈ کی گئی، جو مارکیٹ میں سرگرمی کی عکاسی کرتی ہے۔
اس دوران مجموعی طور پر 1.06 ارب سے زائد شیئرز کے سودے ہوئے جن کی مالیت 72 ارب روپے رہی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مضبوط تجارتی حجم سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی نشاندہی کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کی ایک اہم وجہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے کی توقعات بھی ہیں۔ سرمایہ کار ایسے عالمی عوامل پر گہری نظر رکھتے ہیں جو معاشی استحکام اور سرمایہ کاری کے ماحول کو متاثر کرتے ہیں۔
ہفتے کے دوران مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مجموعی مارکیٹ ویلیو 549 ارب روپے بڑھ کر 19 ہزار 166 ارب روپے تک پہنچ گئی، جو مارکیٹ میں وسیع پیمانے پر ہونے والی خریداری کا نتیجہ ہے۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ آئندہ ہفتوں میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی سمت کا انحصار ملکی معاشی اشاریوں، عالمی سیاسی صورتحال اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر ہوگا۔ مارکیٹ شرکاء بین الاقوامی پیش رفت پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
SEO Keywords: پاکستان اسٹاک ایکسچینج، کے ایس ای 100 انڈیکس، اسٹاک مارکیٹ پاکستان، شیئرز مارکیٹ، امریکا ایران ڈیل، مارکیٹ کیپٹلائزیشن، کاروباری ہفتہ رپورٹ