پی ٹی آئی بجٹ بائیکاٹ کا معاملہ اس وقت سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر گیا ہے جب پارٹی قیادت نے خبردار کیا کہ اگر بانی سے ملاقات نہ کروائی گئی تو وہ بجٹ اجلاس کا بائیکاٹ کریں گے۔ یہ بات قومی اسمبلی کے اجلاس میں کہی گئی۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ اگر کل تک بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کروائی گئی تو پارٹی بجٹ کارروائی سے علیحدگی اختیار کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق عدالتی احکامات کے باوجود گزشتہ 34 ہفتوں سے ملاقات نہیں کروائی جا رہی جو تشویشناک ہے۔
قومی اسمبلی میں بحث اس وقت مزید تیز ہوئی جب اسپیکر ایاز صادق نے کہا کہ اگر بانی اس ایوان کے رکن ہوتے تو پروڈکشن آرڈر جاری کیا جا سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے بارہا اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دی مگر تعاون نہیں کیا گیا۔
پی ٹی آئی بجٹ بائیکاٹ کی دھمکی کے بعد پارلیمانی ماحول مزید کشیدہ ہو گیا ہے۔ اپوزیشن نے آنے والے بجٹ کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ مہنگائی میں مسلسل اضافہ عوام کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ قومی اسمبلی کے اجلاس پر روزانہ کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں، اس لیے کورم پورا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کو فعال رکھنا جمہوری نظام کے لیے ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم کو خود بھی پارلیمنٹ میں آ کر عوامی مسائل سننے چاہئیں۔ ان کے مطابق اگر حکومت واقعی جمہوری ہوتی تو پارلیمنٹ کو نظر انداز نہ کیا جاتا۔
پی ٹی آئی بجٹ بائیکاٹ کی دھمکی آئندہ بجٹ اجلاس پر اثر انداز ہو سکتی ہے جبکہ سیاسی کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات ہی بہتر راستہ ہو سکتا ہے۔