امریکہ نے ایران سے متعلق 9 شخصیات اور اداروں پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق یہ پابندیاں ان عناصر کے خلاف لگائی گئی ہیں جن پر ایرانی دفاعی اداروں اور مسلح افواج کی معاونت کا الزام ہے۔
محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ پابندیوں کا مقصد ایسے نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا ہے جو ایران کے لیے اسلحہ، دفاعی سامان اور دیگر عسکری ضروریات کی خریداری میں کردار ادا کرتے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ اقدامات دفاعی سرگرمیوں کے لیے وسائل کی فراہمی کو محدود کرنے کی کوشش ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ بعض ادارے اور افراد مبینہ طور پر مالی، تکنیکی اور انتظامی معاونت فراہم کرتے رہے ہیں۔ نئی پابندیوں کے ذریعے ان کے بین الاقوامی روابط اور مالی سرگرمیوں کو متاثر کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
امریکی محکمہ خزانہ نے واضح کیا کہ ایران کو ہتھیاروں کی فراہمی میں مدد دینے والے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی۔ حکام کے مطابق یہ اقدامات موجودہ پابندیوں کو مزید مؤثر بنانے کا حصہ ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے مختلف پہلو عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ حالیہ دنوں میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کی عسکری صلاحیتوں کے حوالے سے سخت بیانات دیے تھے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر دعویٰ کیا کہ ایران کی بعض عسکری صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور ملک نے مذاکرات کے حوالے سے اہم مواقع ضائع کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تاخیر کے نتائج ایران کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔