ایران نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ دھمکیوں یا دباؤ کے تحت مذاکرات کرنے پر یقین نہیں رکھتا۔ اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ کسی بھی پائیدار معاہدے کے لیے باہمی احترام اور سنجیدہ سفارت کاری ضروری ہے۔
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیرسعید ایروانی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران نے کبھی دھمکیوں کے تحت مذاکرات نہیں کیے اور نہ ہی مستقبل میں ایسا کرے گا۔ ان کے مطابق قومی خودمختاری اور ملکی مفادات ایران کی خارجہ پالیسی کے بنیادی اصول ہیں۔
ایروانی نے کہا کہ امریکا کے ساتھ دیرپا اور مؤثر معاہدہ طاقت کے استعمال، سیاسی دباؤ یا دھمکیوں کے ذریعے حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ کامیاب مذاکرات کے لیے تمام فریقوں کا برابری اور احترام کے اصول پر عمل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کا مؤقف ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ دباؤ کی سیاست مسائل کا حل نہیں بلکہ پیچیدگیوں میں اضافہ کرتی ہے۔ اسی لیے تہران سفارتی ذرائع اور تعمیری بات چیت کو ترجیح دیتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی اس معاملے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جنگ ایران کے مفاد میں نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی قسم کی دھمکی یا دباؤ کے ذریعے ایران کو جھکنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔
صدر پزشکیان کے مطابق بعض عناصر یہ امید رکھتے ہیں کہ ایران بیرونی دباؤ کے سامنے ہتھیار ڈال دے گا، لیکن ایسا ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنی آزادی، خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے۔