قطر نے ایران تعمیر نو فنڈ کے لیے تجویز کردہ 300 ارب ڈالر کے منصوبے کو ابھی ایک امکانی اور غیر حتمی تصور قرار دیا ہے۔ قطری وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے بدھ کے روز کہا کہ اس منصوبے کا مستقبل ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ حتمی معاہدے سے جڑا ہوا ہے۔
ایک حالیہ انٹرویو میں شیخ محمد نے واضح کیا کہ 300 ارب ڈالر کی رقم کوئی طے شدہ مالی وعدہ نہیں بلکہ ایک طویل المدتی ہدف ہے۔ ان کے مطابق اس منصوبے کو عملی شکل دینے کے لیے مزید سفارتی پیش رفت ضروری ہوگی۔
رپورٹس کے مطابق امریکی انتظامیہ نے تجویز دی ہے کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان جامع معاہدہ طے پا جاتا ہے تو خلیجی ممالک ایران تعمیر نو فنڈ میں مالی تعاون کر سکتے ہیں۔ اس فنڈ کا مقصد سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنا ہوگا۔
قطری وزیراعظم نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ آیا قطر خود اس فنڈ میں مالی حصہ ڈالے گا یا نہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ قطر ہمیشہ خطے میں معاشی خوشحالی اور ترقی کا حامی رہا ہے اور اس کی سرمایہ کاری عموماً تجارتی بنیادوں پر کی جاتی ہے۔
یہ مجوزہ منصوبہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے آرٹیکل 6 سے منسلک ہے۔ اس شق کے تحت ایران کی تعمیر نو اور اقتصادی ترقی کے لیے ایک بڑے پروگرام کے قیام کا تصور پیش کیا گیا ہے۔
مفاہمتی دستاویز کے مطابق امریکا اور اس کے علاقائی شراکت دار کم از کم 300 ارب ڈالر مالیت کے ترقیاتی پروگرام کے قیام کے لیے مل کر کام کریں گے۔ منصوبے کے عملی طریقہ کار کو حتمی معاہدے کے بعد 60 دن کے اندر طے کیا جانا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران تعمیر نو فنڈ کا مستقبل مکمل طور پر سفارتی مذاکرات اور امریکا ایران تعلقات میں پیش رفت پر منحصر ہے۔ فی الحال یہ منصوبہ ابتدائی مرحلے میں ہے اور اس کے مالی ڈھانچے یا شریک ممالک کے بارے میں کوئی حتمی اعلان نہیں کیا گیا۔