رانا ثنااللہ

مہاجرین کی نشستوں کے معاملے پر ایکشن کمیٹی تنقید کی زد میں، رانا ثنااللہ کا ردعمل

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے آزاد جموں و کشمیر میں مہاجرین کی نشستوں کے معاملے پر ایکشن کمیٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مسئلہ سیاسی دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اختلافات کے حل کے لیے جمہوری اور آئینی راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ گزشتہ سال ایکشن کمیٹی نے حکومت کے سامنے 38 مطالبات رکھے تھے۔ ان کے مطابق حکومت نے ان مطالبات پر پیش رفت کی اور متعدد مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات بھی کیے۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی کوششوں کے باوجود کمیٹی نے احتجاج اور دباؤ کی سیاست کو ترجیح دی۔ ان کے بقول معاملات کو مذاکرات اور افہام و تفہیم سے حل کیا جا سکتا تھا، لیکن بعض عناصر نے تصادم کا راستہ اختیار کیا۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ حکومت نے بجلی اور گندم کی مد میں آزاد کشمیر کو نمایاں سہولتیں فراہم کی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ علاقے میں بجلی کے نرخ ملک کے دیگر حصوں کے مقابلے میں کم ہیں جبکہ گندم پر سبسڈی بھی جاری رکھی گئی ہے۔

مہاجرین کی نشستوں کے حوالے سے رانا ثنااللہ نے کہا کہ حکومت آئینی اور جمہوری دائرے میں رہتے ہوئے تجاویز پر غور کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم مہاجرین کی مخصوص نشستوں کے مکمل خاتمے کے مطالبے سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ مہاجرین کو حقِ رائے دہی سے محروم کرنا تحریک کشمیر کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہوگا۔ ان کے مطابق مہاجر برادری کی سیاسی نمائندگی برقرار رکھنا ایک اہم قومی ذمہ داری ہے۔

اپنی گفتگو کے اختتام پر رانا ثنااللہ نے کہا کہ حکومت نے تنازع کے حل کے لیے مختلف آپشنز پیش کیے تھے، لیکن انہیں قبول نہیں کیا گیا۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ مسائل کے حل کے لیے مذاکرات، جمہوری روایات اور آئینی طریقہ کار کو ترجیح دی جائے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین