ریاض ایئرپورٹ کی بندش

سعودی عرب نے مہلک حملوں کے بعد ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں توسیع کر دی

سعودی عرب نے یمن کے ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ سے منسوب مہلک حملوں کے بعد ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی بندش میں توسیع کر دی ہے۔ سعودی حکام نے پیر کو بتایا کہ ایئرپورٹ کی سرگرمیاں اس وقت تک معطل رہیں گی جب تک حفاظتی اقدامات اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ مکمل نہیں ہو جاتا۔

سعودی شہری ہوابازی اتھارٹی کے مطابق ایئرپورٹ کی تنصیبات کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات مکمل کیے جا رہے ہیں۔ کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سعودی عرب کا جدہ کے بعد دوسرا مصروف ترین ہوائی اڈہ ہے اور بین الاقوامی فضائی سفر کے لیے اہم مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔

ریاض ایئرپورٹ کی بندش ہفتے کو ہونے والے ایک حملے کے بعد شروع ہوئی، جس میں اطلاعات کے مطابق 13 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق اتوار کو ایک اور حملے میں ایک پاکستانی شہری جاں بحق جبکہ تقریباً ایک درجن افراد زخمی ہوئے۔ ان واقعات نے سعودی عرب میں سکیورٹی صورتحال پر تشویش بڑھا دی ہے۔

ایئرپورٹ کی بندش سے فضائی سفر شدید متاثر ہوا ہے۔ فضائی سفر کے اعداد و شمار کا تجزیہ کرنے والی کمپنی سیریم کے مطابق اتوار کو ایئرپورٹ کی 99.7 فیصد شیڈول پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔ فلائٹ ٹریکنگ پلیٹ فارم فلائٹ ریڈار 24 کے اعداد و شمار میں بھی رپورٹ کے وقت ریاض کے اوپر کوئی طیارہ دکھائی نہیں دیا۔

حملوں کے بعد یورپ اور ایشیا کی متعدد ایئرلائنز نے سعودی عرب کے لیے پروازیں معطل یا ان کے شیڈول میں تبدیلی کی ہے۔ لفتھانزا گروپ نے 16 اکتوبر تک ریاض کے لیے تمام پروازیں منسوخ کر دیں، جبکہ ایئر فرانس کے ایل ایم نے سعودی دارالحکومت آنے اور جانے والی پروازوں کی معطلی اکتوبر کے اختتام تک بڑھا دی۔ اتحاد ایئرویز نے بھی ریاض، جدہ اور دمام کے لیے پروازیں منسوخ کرنے کا فیصلہ آگے بڑھایا۔

فضائی آپریشن متاثر ہونے کے بعد عالمی ہوا بازی کی سکیورٹی سے متعلق خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن نے اتوار کو امریکی ایئرلائنز کو سعودی عرب کے لیے یا اس کی فضائی حدود سے گزرنے والی پروازوں کے دوران احتیاط برتنے کی ہدایت کی۔ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات پہلے ہی فضائی سفر کو متاثر کر رہے ہیں۔

حملوں کے ممکنہ معاشی اثرات اور ریاض میں رواں ماہ ہونے والی اہم تقریبات کے بارے میں بھی خدشات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی حقیقی مجموعی قومی پیداوار میں رواں سال 3.6 فیصد کمی کا تخمینہ ہے، جس کی وجوہات میں تیل کی سرگرمیوں میں کمی بھی شامل ہے۔ مملکت کی اہم سرمایہ کاری کانفرنس اور ڈبلیو پی سی انرجی کانگریس کی تیاریوں اور شرکا کی شرکت پر بھی سکیورٹی صورتحال کے اثرات پڑنے کا خدشہ ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین