حوثی فوجی اہداف

سعودی اتحاد کا حوثیوں کے 100 سے زائد فوجی اہداف تباہ کرنے کا دعویٰ

یمن میں حوثی تحریک کے خلاف کارروائیاں کرنے والے سعودی قیادت میں اتحاد نے ہفتے کو بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کے دوران 136 اہداف تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن میں لڑائی شدت اختیار کر رہی ہے اور اس کے اثرات پڑوسی ملک سعودی عرب تک پھیل رہے ہیں۔

سعودی قیادت میں اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغامات میں آپریشن کی تفصیلات بتائیں۔ ان کے مطابق کارروائی کا مقصد حوثی جنگجوؤں اور ان کی فوجی صلاحیتوں کو نشانہ بنانا ہے۔ انہوں نے ایک الگ پیغام میں کہا کہ حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں 136 فوجی اہداف تباہ کیے گئے۔

یہ کارروائی یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت اور حوثی تحریک کے درمیان جاری تنازع میں مزید شدت کی نشاندہی کرتی ہے۔ جولائی میں دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کے اثرات یمن کی سرحدوں سے باہر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ تاہم، اتحاد کے اعلان میں تباہ کیے گئے اہداف کی مکمل تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

دوسری جانب حوثیوں سے وابستہ یمنی ٹی وی چینل المسیرہ نے رپورٹ کیا کہ سعودی میزائلوں نے شمال مغربی یمن کے صوبے صعدہ کے علاقوں کو نشانہ بنایا۔ چینل نے حملوں کے مقامات سے متعلق معلومات فراہم کیں، تاہم دستیاب رپورٹ میں نقصان کی مکمل تفصیلات کی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی۔ تازہ حملوں میں جانی نقصان سے متعلق معلومات بھی سامنے نہیں آئیں۔

حوثیوں نے یمن کے بحیرہ احمر سے متصل ساحلی علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے اور سعودی عرب میں نقل و حمل کے مراکز، تیل کی تنصیبات اور دیگر اہداف پر ڈرون اور میزائل حملے کیے ہیں۔ سعودی عرب دنیا میں خام تیل برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، اس لیے ایسی کارروائیاں اس کی سکیورٹی کے لیے اہم تشویش کا باعث ہیں۔

سعودی عرب نے جمعے کو بتایا کہ ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر گزشتہ روز ہونے والے حملوں میں تین افراد ہلاک ہوئے۔ حوثیوں نے بھی اس تنصیب کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔ دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق یمن کے حوثیوں کے زیر کنٹرول دارالحکومت صنعا پر سعودی حملوں میں دو افراد ہلاک ہوئے۔ ان واقعات کی تفصیلات اور حالات الگ الگ ہیں۔

سعودی عرب اور یمنی حکومتی فورسز حوثیوں کی پیش قدمی روکنے اور کھوئے ہوئے علاقے واپس لینے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔ اہم علاقوں میں باب المندب آبنائے کے اطراف کا خطہ بھی شامل ہے، جہاں سے عالمی تجارت کے لیے اہم بحری جہاز گزرتے ہیں۔ حوثی فوجی اہداف کے خلاف تازہ کارروائی خطے میں بڑھتی فوجی کشیدگی اور عالمی بحری تجارت کو درپیش خطرات کو نمایاں کرتی ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین