مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔ خطے میں پیدا ہونے والی نئی صورتحال نے عالمی توانائی کی سپلائی اور اہم بحری راستوں کی سکیورٹی کے حوالے سے سرمایہ کاروں کے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعرات کو برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً ایک فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 108.68 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں پر نظر رکھنے والے سرمایہ کار خطے میں ہونے والی پیش رفت کو انتہائی محتاط انداز میں دیکھ رہے ہیں۔
دوسری جانب امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق WTI کی قیمت 6.7 فیصد بڑھ کر تقریباً 103 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جو مئی کے وسط کے بعد اس کی بلند ترین سطح قرار دی جا رہی ہے۔
برطانوی میڈیا کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ عالمی منڈی میں مربن خام تیل کی قیمت تقریباً 122 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں یہ تیزی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مارکیٹ میں خطے سے عالمی توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یمن میں حوثیوں کی جانب سے بندرگاہی شہر موخا پر قبضے اور آبنائے ہرمز میں مزید بحری جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ ان واقعات نے عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کی ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم بحری راستہ ہے۔ اگر یہاں بحری نقل و حرکت طویل عرصے تک متاثر ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی دستیابی، شپنگ اخراجات اور سپلائی چین پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمت مزید اوپر جانے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔