لاہور اسکول عمارت گرنے کا واقعہ جمعرات کو باغبانپورہ میں پیش آیا، جہاں زیر تعمیر اسکول کی عمارت منہدم ہونے سے آٹھ سالہ بچہ جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ واقعے کے بعد حکام نے مبینہ طور پر غیر قانونی سمر کیمپ چلانے کے الزامات کی بھی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق عمارت کی تیسری منزل پر تعمیراتی کام جاری تھا کہ اچانک ڈھانچہ گر گیا۔ ملبہ گراؤنڈ فلور اور ساتھ والی گلی میں جا گرا، جس کے باعث کئی افراد ملبے تلے دب گئے۔ امدادی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بچوں اور عملے کو محفوظ مقام پر منتقل کیا۔
پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والے بچے کی شناخت آٹھ سالہ ابو بکر کے نام سے ہوئی ہے۔ چار زخمیوں کو سروسز اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ ایک زخمی بچے کو نجی اسپتال لے جایا گیا۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ زخمیوں کو سر پر شدید چوٹیں اور ہڈیاں ٹوٹنے کے زخم آئے، تاہم تمام زخمی اب خطرے سے باہر ہیں۔
لاہور اسکول عمارت گرنے کا واقعہ سامنے آنے کے بعد پولیس نے اسکول کی وائس پرنسپل، چھ خواتین اساتذہ اور چوکیدار کو تحویل میں لے لیا۔ پولیس کے مطابق واقعے کے وقت اسکول کی پرنسپل اور ہیڈمسٹریس موجود نہیں تھیں جبکہ انتظامی عملے سے پوچھ گچھ جاری ہے۔
پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے اور ذمہ دار افراد کی نشاندہی کرنے کی ہدایت دی ہے۔ دوسری جانب ضلعی ایجوکیشن اتھارٹی نے چار تعلیمی افسران کو معطل کر دیا، اسکول کو سیل کر دیا گیا جبکہ اسکول کے مالک کے خلاف مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔
واقعے کے بعد مبینہ غیر قانونی سمر کیمپ بھی تحقیقات کا مرکز بن گیا ہے۔ حکام کے مطابق پنجاب میں سمر کیمپ چلانے کی اجازت 30 جون کو ختم ہو چکی تھی جبکہ مقررہ اوقات صبح 10 بجے تک محدود تھے۔ اس کے باوجود کیمپ جاری رکھنے کے الزامات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
لاہور اسکول عمارت گرنے کا واقعہ نے نجی تعلیمی اداروں میں تعمیراتی کام، حفاظتی انتظامات اور سمر کیمپ قواعد پر عمل درآمد سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے جامع تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔