کراچی: سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2026 کا مسودہ تیار کرلیا گیا ہے، جس میں صوبے کے بلدیاتی نظام سے متعلق متعدد اہم تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔ مسودے کی ایک کاپی بھی سامنے آگئی ہے۔
مجوزہ قانون کے تحت بلدیاتی کونسل کی مدت مکمل ہونے کے بعد نئے انتخابات ہونے تک موجودہ میئر یا چیئرمین بطور ایڈمنسٹریٹر اپنے فرائض انجام دیتا رہے گا۔ حکومت سندھ کو کونسل کی مدت ختم ہونے سے 120 روز قبل نئے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن سے رجوع کرنا ہوگا۔
مسودے میں ڈپٹی میئر یا وائس چیئرمین کو کونسل کا کنوینر بنانے کی تجویز بھی شامل ہے۔ کنوینر کو اجلاسوں کی صدارت کرنے اور کونسل کا کاروبار چلانے کا اختیار حاصل ہوگا۔ اس کے علاوہ میئر یا چیئرمین کی جانب سے تفویض کیے جانے والے اضافی اختیارات بھی ڈپٹی میئر یا وائس چیئرمین استعمال کرسکے گا۔
مجوزہ ترامیم کے مطابق کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) سمیت دیگر میٹروپولیٹن کارپوریشنز میں میٹروپولیٹن کمشنر ہی چیف ایگزیکٹو کے طور پر کام کرے گا۔
بل میں عوامی تنازعات کے حل کے لیے یونین کونسل، یونین کمیٹی، ٹاؤن کمیٹی اور میونسپل کمیٹی کی سطح پر مصالحتی فورمز قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ہر مصالحتی فورم تین مصالحت کاروں پر مشتمل ہوگا، جنہیں مقامی طور پر معتبر افراد میں سے نامزد کیا جائے گا۔
مسودے میں مقامی حکومت اور پولیس کے درمیان رابطے کا طریقہ کار بھی تجویز کیا گیا ہے۔ ایس ایچ او مقامی عوامی تحفظ اور امن و امان سے متعلق امور پر یونین چیئرمین سے رابطہ کرے گا، جبکہ ایس ایس پی مؤثر پولیسنگ کے لیے ضلعی کونسل کے چیئرمین یا متعلقہ کارپوریشن کے میئر سے رابطے کا پابند ہوگا۔
تاہم پولیس اور بلدیاتی نمائندوں کے درمیان یہ رابطہ ضلعی پولیس انتظامیہ، فوجداری تفتیش اور استغاثہ کے معاملات تک نہیں بڑھ سکے گا۔ یونین کونسلوں کو غیرقانونی تعمیرات اور بلڈنگ کنٹرول کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرکے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو آگاہ کرنا ہوگا۔
مجوزہ قانون کے تحت یونین کونسل اپنے علاقوں میں ٹھوس کچرے سے متعلق مسائل کی نشاندہی کرکے متعلقہ حکام کو معلومات فراہم کرے گی۔ عوامی خدمات سے متعلق انفرا اسٹرکچر کی جگہ اور حدود واضح کرنے والے تفصیلی نقشے بھی تیار کرنا ہوں گے۔
مسودے میں لوکل گورنمنٹ کمیشن کے اجلاس سے متعلق بھی شرط رکھی گئی ہے، جس کے تحت کمیشن کو کم از کم ہر تین ماہ میں ایک مرتبہ اجلاس منعقد کرنا ہوگا۔ منتخب بلدیاتی نمائندوں اور افسران کی تربیت کے لیے کونسلوں کو سالانہ بجٹ میں فنڈز مختص کرنا ہوں گے۔
کونسلیں تربیتی پروگرام خود منعقد کرنے یا ضرورت کے مطابق انہیں آؤٹ سورس کرنے کی مجاز ہوں گی۔ اس کے علاوہ خواتین اور معذور افراد کو درپیش مسائل، ان کی ضروریات اور بلدیاتی اداروں میں ان کی شرکت سے متعلق جامع رپورٹس بھی جمع کرانا ہوں گی۔