آبنائے ہرمز کھولنے کا فیصلہ ایران کے وزیر خارجہ نے کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ جنگ بندی کے باقی عرصے کے دوران تمام تجارتی جہازوں کو اس اہم سمندری راستے سے گزرنے کی اجازت ہوگی۔
حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کھولنے کا فیصلہ خطے میں جاری جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی کے تناظر میں کیا گیا ہے تاکہ بحری تجارت جزوی طور پر بحال ہو سکے۔
گزشتہ کئی ہفتوں سے اس راستے میں رکاوٹوں کے باعث عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل شدید متاثر ہوئی تھی۔
ایران نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کھولنے کا فیصلہ عارضی ہے اور یہ صرف جنگ بندی کی مدت تک نافذ رہے گا، بعد میں صورتحال کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔
یہ آبنائے دنیا کی سب سے اہم تیل اور توانائی کی گزرگاہوں میں سے ایک ہے، جس کے کھلنے سے عالمی منڈیوں پر دباؤ کم ہونے کی توقع ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کھولنے کا فیصلہ خطے میں کشیدگی میں کمی کی علامت ہو سکتا ہے، تاہم مستقل امن کا انحصار سفارتی کوششوں پر ہوگا۔
مجموعی طور پر یہ اقدام عالمی تجارت کے لیے ایک وقتی ریلیف ہے، جس سے اہم بحری راستہ جزوی طور پر دوبارہ بحال ہو گیا ہے۔