امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنازع کا کوئی نہ کوئی حل جلد سامنے آ سکتا ہے۔ ٹرمپ ایران مذاکرات سے متعلق ان کے بیان میں امریکا کی فوجی اور مالی پوزیشن کو بھی مضبوط قرار دیا گیا۔ الجزیرہ کے مطابق، ٹرمپ نے یہ گفتگو جوائنٹ بیس اینڈریوز میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کی۔
صحافیوں نے امریکی صدر سے سوال کیا کہ کیا انہوں نے ایرانی حکام کے ساتھ مذاکرات کی کوششیں ترک کر دی ہیں۔ جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اس وقت ایران کے ساتھ مذاکرات نہیں کر رہا۔ تاہم، انہوں نے اشارہ دیا کہ کسی نہ کسی صورت میں پیش رفت متوقع ہے۔ ان کے بیان سے یہ واضح نہیں ہو سکا کہ معاملے کا حل مذاکرات کے ذریعے نکلے گا یا کسی اور طریقے سے۔
ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسی نہ کسی صورت میں نتیجہ سامنے آئے گا اور یہ معاملہ کافی جلد آگے بڑھے گا۔ ان کے مطابق، تنازع کے حوالے سے مستقبل قریب میں کوئی اہم پیش رفت ہو سکتی ہے۔ تاہم، انہوں نے کسی ممکنہ معاہدے کی تاریخ، شرائط یا اپنی انتظامیہ کے آئندہ اقدامات کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
امریکی صدر نے ممکنہ پیش رفت کے وقت پر بات کرتے ہوئے امریکا میں ہونے والے آئندہ وسط مدتی انتخابات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ معاملہ انتخابات کے بعد آگے بڑھے گا۔ تاہم، ٹرمپ نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ ان کی انتظامیہ انتخابات مکمل ہونے تک کسی اقدام سے گریز کرے گی۔
ٹرمپ ایران مذاکرات سے متعلق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان تنازع کے حل اور سفارتی رابطوں کے امکانات کے بارے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ امریکی صدر نے یہ واضح نہیں کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان رسمی یا غیر رسمی رابطے جاری ہیں یا نہیں۔ انہوں نے کسی نئی ملاقات یا سفارتی اقدام کا اعلان بھی نہیں کیا۔
صحافیوں سے گفتگو کے دوران ٹرمپ نے ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں کی تعریف کی اور ان کے نتائج کو غیر معمولی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا فوجی اور مالی لحاظ سے بہت اچھی کارکردگی دکھا رہا ہے۔ ٹرمپ نے جنگ کو محدود تنازع قرار دیتے ہوئے اسے ایران کے خلاف ایک چھوٹا تنازع بھی کہا۔
اپنے پراعتماد مؤقف کے باوجود ٹرمپ نے ممکنہ تصفیے، اس کی شرائط یا تنازع ختم کرنے کے لیے درکار اقدامات کے بارے میں مزید معلومات نہیں دیں۔ ان کے بیان سے ایران کے ساتھ کسی فوری معاہدے کی تصدیق بھی نہیں ہوئی۔ اس لیے صورتحال بدستور غیر یقینی ہے، جبکہ تنازع جلد حل ہونے سے متعلق ان کی پیشگوئی نے آئندہ پیش رفت پر توجہ بڑھا دی ہے۔