ایران معاہدہ دستخط کے حوالے سے صورتحال اس وقت غیر یقینی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ ختم کرنے سے متعلق ابتدائی معاہدے پر آج دستخط کیے جائیں گے، تاہم ایرانی حکام نے اس ٹائمنگ پر سوال اٹھا دیا ہے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے ساتھ فریم ورک معاہدہ آج مکمل ہوگا اور دستخط کے بعد آبنائے ہرمز کو عالمی تجارت کے لیے کھول دیا جائے گا۔ ان کے مطابق یہ مذاکرات میں بڑی پیش رفت ہے اور جلد اہم نتیجہ سامنے آ سکتا ہے۔
تاہم ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ اتوار کو کسی معاہدے پر دستخط نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق مذاکرات جاری ہیں اور اگرچہ پیش رفت ہوئی ہے لیکن حتمی تاریخ طے نہیں کی گئی۔
پاکستان اس عمل میں ثالث کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دونوں فریق ایک فریم ورک پر متفق ہو چکے ہیں اور پاکستان الیکٹرانک دستخط کی تیاری کر رہا ہے، جس کے بعد تکنیکی مذاکرات ہوں گے۔
امریکی حکام نے بھی فوری طور پر کوئی حتمی وقت دینے سے گریز کیا لیکن کہا کہ مسودہ معاہدہ “مضبوط” ہے۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ بات چیت ابھی حساس مرحلے میں ہے، جس سے ایران معاہدہ دستخط کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
مجوزہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کی بحالی، پابندیوں میں نرمی اور ایران کے جوہری پروگرام پر بعد میں مذاکرات شامل ہیں۔ تاہم ایران کا مؤقف ہے کہ کئی اہم معاملات ابھی حل طلب ہیں۔
مختلف بیانات کے باوجود سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ فریقین پہلے سے زیادہ قریب ہیں، لیکن حتمی معاہدے اور ایران معاہدہ دستخط سے قبل ابھی مزید سیاسی اور تکنیکی رکاوٹیں موجود ہیں۔