امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی درخواست پر امریکا نے ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی روک دی تھی۔ ایک امریکی ٹی وی انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران سے متعلق اہم فیصلوں کے دوران پاکستان نے سفارتی کردار ادا کیا۔
ٹرمپ کا ایران سے متعلق بیان عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تاہم مجوزہ معاہدہ ابھی حتمی مرحلے میں داخل نہیں ہوا اور واشنگٹن اس سے مکمل طور پر مطمئن نہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ وہی کر سکتا تھا جو اس نے وینزویلا کے ساتھ کیا تھا، لیکن پاکستان کی درخواست پر کارروائی روک دی گئی۔ ان کے مطابق خطے کی صورتحال کے پیشِ نظر یہ فیصلہ اہم تھا۔
ٹرمپ نے پاکستانی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کو بہترین شخصیات قرار دیا۔ ان کے اس بیان کے بعد پاکستان کے سفارتی کردار پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔
ایران سے متعلق کشیدگی پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران تنازع میں امریکا کی صرف 13 ہلاکتیں ہوئیں جبکہ افغانستان اور عراق کی جنگوں میں ہزاروں امریکی جانیں ضائع ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا خطے میں طویل جنگ نہیں چاہتا۔
ٹرمپ کا ایران سے متعلق بیان ایران کے جوہری پروگرام پر بھی سخت مؤقف پر مبنی تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کمزور پوزیشن میں مذاکرات کر رہا ہے اور اس کے پاس محدود راستے باقی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یا تو معاہدہ ہوگا یا امریکا کارروائی مکمل کرے گا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران پر پابندیاں نرم کرنے پر بات نہیں ہو رہی۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کو عالمی تجارت کے لیے کھلا رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مناسب وقت پر بحری نقل و حرکت بحال کر دی جائے گی۔