امریکا نے ایران کی تازہ سفارتی تجویز پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے، جس سے ٹرمپ ایران امن تجویز مسترد ہونے کی صورتحال واضح ہو گئی ہے۔ یہ پیش رفت ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔
ایک امریکی عہدیدار کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی اس تجویز سے ناخوش ہیں جس میں جنگ ختم ہونے تک جوہری معاملے کو مؤخر کرنے کی بات کی گئی ہے۔ ٹرمپ ایران امن تجویز مسترد ہونے سے مذاکراتی عمل مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔
ایران نے اپنی تجویز میں کہا ہے کہ پہلے مرحلے میں جنگ بندی کی جائے اور خلیجی سمندری راستوں سے متعلق تنازعات حل کیے جائیں، جبکہ امریکا کا مؤقف ہے کہ جوہری مسئلہ ابتدا ہی میں حل ہونا چاہیے۔
ٹرمپ ایران امن تجویز مسترد ہونے کی ایک بڑی وجہ آبنائے ہرمز کی صورتحال بھی ہے، جہاں تیل کی ترسیل میں رکاوٹ نے عالمی منڈیوں کو متاثر کیا ہے اور مہنگائی میں اضافہ کیا ہے۔
امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس میڈیا کے ذریعے مذاکرات نہیں کرے گا اور ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی سلامتی پر اپنی “ریڈ لائنز” واضح کر چکا ہے۔
اسی دوران اسلام آباد، عمان اور ماسکو میں ہونے والی سفارتی کوششیں بھی کوئی حتمی نتیجہ نہیں دے سکیں۔ ایرانی وزیر خارجہ مختلف ممالک سے رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
تیل کی ترسیل میں رکاوٹ اور سمندری کشیدگی کے باعث عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے، اور ماہرین کے مطابق ٹرمپ ایران امن تجویز مسترد ہونے سے توانائی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔