امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے اور امریکا و ایران کے درمیان امن مذاکرات جلد شروع ہونے کا امکان ہے۔ ایران جنگ امن مذاکرات کے حوالے سے سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔
ٹرمپ کے مطابق امریکا اور ایران ایک معاہدے کے بہت قریب ہیں اور ممکن ہے کہ ہفتے کے آخر میں ملاقات ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پیش رفت جاری رہی تو جنگ بندی میں توسیع کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
ایران جنگ امن مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب کئی ماہ کی کشیدگی نے عالمی معیشت اور توانائی کی ترسیل کو متاثر کیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے 20 سال سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کا عندیہ دیا ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق پسِ پردہ مذاکرات میں پاکستان کا کردار بھی شامل رہا ہے، جس نے امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں کو آسان بنایا۔ ایران جنگ امن مذاکرات میں ابتدائی معاہدے پر بات ہو رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستانی قیادت نے دونوں ممالک کے درمیان رابطوں میں اہم کردار ادا کیا ہے، جسے سفارتکاری میں اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
یہ تنازع عالمی منڈیوں پر بھی اثر انداز ہوا ہے، خصوصاً تیل کی قیمتوں اور تجارتی راستوں میں رکاوٹوں کی صورت میں۔ ماہرین کے مطابق ایران جنگ امن مذاکرات سے عالمی معیشت میں بہتری آ سکتی ہے۔
مجموعی طور پر ٹرمپ کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران جنگ امن مذاکرات کسی اہم سفارتی پیش رفت کی طرف بڑھ رہے ہیں، تاہم جوہری پروگرام اور پابندیاں اب بھی بڑے مسائل ہیں۔