ٹرمپ برطانیہ ٹیرف دھمکی ایک بار پھر سامنے آ گئی ہے جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ کی ڈیجیٹل سروسز ٹیکس پالیسی پر سخت ردعمل دیتے ہوئے نئے ٹیرف لگانے کی دھمکی دی ہے۔
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ برطانیہ کی جانب سے بڑے امریکی ٹیکنالوجی اداروں پر عائد ٹیکس غیر منصفانہ ہے اور اس کا جواب امریکہ بھاری ٹیرف کی صورت میں دے سکتا ہے۔
ٹرمپ برطانیہ ٹیرف دھمکی کا تعلق اس ٹیکس سے ہے جو 2020 سے نافذ ہے اور اس کے تحت بڑے عالمی ٹیک اداروں کی آمدن پر دو فیصد ٹیکس لگایا جاتا ہے جو برطانیہ میں صارفین سے حاصل ہوتی ہے۔
ٹرمپ نے مؤقف اپنایا کہ یہ ٹیکس امریکی کمپنیوں کو نشانہ بناتا ہے اور اگر اسے ختم نہ کیا گیا تو امریکہ جوابی اقدامات کرے گا اور برآمدات پر بھاری محصولات عائد کرے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور برطانیہ کے تعلقات پہلے ہی مختلف عالمی تنازعات اور دفاعی معاملات پر دباؤ کا شکار ہیں۔
امریکی حکام پہلے بھی یورپ کے کئی ممالک پر ڈیجیٹل ٹیکس کے خلاف تحفظات ظاہر کر چکے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ معاملہ صرف برطانیہ تک محدود نہیں۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ برطانیہ ٹیرف دھمکی عالمی تجارت میں نئے تنازعات کو جنم دے سکتی ہے اور ڈیجیٹل معیشت و بین الاقوامی پالیسیوں کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔