ترکیہ نے سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کے بعد وہاں فوجی اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دنیا نیوز کے مطابق خبر رساں ادارے رائٹرز نے یہ دعویٰ ترک حکمران جماعت کے ایک رکن پارلیمنٹ کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق ترک حکمران جماعت کے رکن پارلیمنٹ نے بتایا کہ معاہدے کی توثیق کے بعد فوجی تعیناتی سے متعلق قرارداد پارلیمنٹ میں پیش کی جائے گی۔ رپورٹ میں قرارداد پیش کرنے کی تاریخ نہیں بتائی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ انتظام کے تحت ترکیہ اپنے فوجی اہلکار سعودی عرب میں تعینات کرسکے گا۔ ان اہلکاروں کی ابتدائی ذمہ داریوں میں فضائی دفاع اور الیکٹرانک وارفیئر کے شعبوں میں معاونت شامل ہوگی۔
سعودی عرب میں ترک فوجی تعیناتی مشترکہ دفاعی تعاون کا حصہ ہوگی۔ تاہم، رپورٹ میں تعینات کیے جانے والے اہلکاروں کی تعداد، ان کے مقامات یا تعیناتی کی مدت سے متعلق تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
رائٹرز کے مطابق معاہدے کے تحت بیرون ملک تعینات ترک فوجی اہلکار جارحانہ کارروائیوں میں حصہ نہیں لیں گے۔ اس شق کے تحت ان اہلکاروں کے کردار کی حدود مقرر ہوں گی۔
یہ پیش رفت ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدے سے متعلق تعاون کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں قریبی تعاون کے امکانات پر پیش رفت ہورہی ہے۔
رائٹرز نے مزید رپورٹ کیا کہ ترکیہ نے بحیرۂ احمر میں بحری جہازوں کی حفاظت کے لیے سعودی اتحاد میں شامل ہونے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ تاہم، رپورٹ میں اس تعاون کے آغاز، عملی انتظامات یا ترکیہ کے مخصوص کردار کی مزید تفصیلات نہیں دی گئیں۔