یوکرین کے ڈرون حملے سینٹ پیٹرزبرگ

یوکرین کے ڈرون حملے سینٹ پیٹرزبرگ میں توانائی اور عسکری اہداف تک پہنچ گئے

یوکرین کے ڈرون حملے سینٹ پیٹرزبرگ میں روسی توانائی اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے جنگ کے ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب روس میں سالانہ بین الاقوامی اقتصادی فورم کا آغاز ہوا، جسے صدر ولادیمیر پوتن کے اہم ترین معاشی ایونٹس میں شمار کیا جاتا ہے۔

یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کے مطابق طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز نے ایک ہزار کلومیٹر سے زائد سفر کر کے سینٹ پیٹرزبرگ کے ایک آئل ٹرمینل کو نشانہ بنایا، جہاں آگ بھڑک اٹھی اور شہر کے مختلف حصوں سے دھوئیں کے بادل دیکھے گئے۔

رپورٹس کے مطابق یوکرین کے ڈرون حملے سینٹ پیٹرزبرگ تک محدود نہیں رہے بلکہ کرونشٹاڈ بحری اڈے کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں یوکرینی حکام نے ایک روسی جنگی جہاز کو نقصان پہنچنے کا دعویٰ کیا۔ روسی حکام نے حملوں کی تصدیق کی، تاہم نقصان کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں۔

یہ حملے سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم کے آغاز کے ساتھ ہوئے، جسے اکثر "روسی ڈیووس” کہا جاتا ہے۔ یہ فورم روس کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری اور معاشی روابط کو فروغ دینے کا ایک اہم پلیٹ فارم سمجھا جاتا ہے۔

دوسری جانب مارک روٹے اچانک دورے پر کیف پہنچے، جہاں انہوں نے یوکرینی حکام سے دفاعی تعاون اور فضائی دفاعی نظام کی ضروریات پر تبادلہ خیال کیا۔ یوکرین مسلسل مزید مغربی دفاعی امداد کا مطالبہ کر رہا ہے۔

صدر زیلنسکی نے اضافی پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظاموں کی فراہمی میں تاخیر پر بھی ناراضی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی سطح پر معاہدے موجود ہیں، لیکن مالی اور تکنیکی رکاوٹوں کی وجہ سے پیش رفت سست ہے۔

تازہ یوکرین کے ڈرون حملے سینٹ پیٹرزبرگ روس اور یوکرین کے درمیان بڑھتی ہوئی طویل فاصلے کی کارروائیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک طرف یوکرین روسی توانائی اور فوجی اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے جبکہ دوسری جانب روس یوکرین پر بڑے پیمانے پر ڈرون اور میزائل حملے جاری رکھے ہوئے ہے، جس سے جنگ کے خاتمے کے امکانات اب بھی غیر واضح ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین