کرنسی سواپ معاہدہ اس وقت خبروں میں ہے جب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ کئی خلیجی اتحادی ممالک نے مالی استحکام کے لیے اس سہولت کی درخواست کی ہے۔
امریکی سینیٹ کی سماعت کے دوران اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ کرنسی سواپ معاہدہ حاصل کرنے والے ممالک میں متحدہ عرب امارات بھی شامل ہے، جو اس خطے کا ایک اہم مالیاتی شراکت دار ہے۔
کرنسی سواپ معاہدہ ایک ایسا مالی نظام ہے جس کے تحت امریکہ عارضی طور پر ڈالر فراہم کرتا ہے جبکہ بدلے میں متعلقہ ملک کی کرنسی حاصل کی جاتی ہے تاکہ مالی دباؤ کو کم کیا جا سکے۔
وزیر خزانہ کے مطابق اس نظام کا مقصد یہ بھی ہے کہ اتحادی ممالک کی جانب سے عالمی منڈیوں میں اثاثوں کی غیر منظم فروخت کو روکا جا سکے، جس سے معاشی استحکام متاثر ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کرنسی سواپ معاہدہ بین الاقوامی مالیاتی نظام میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے ایک اہم ذریعہ ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی معیشت دباؤ کا شکار ہو۔
یہ معاہدہ ممالک کو ڈالر کی کمی کے دوران فوری مالی مدد فراہم کرتا ہے تاکہ وہ اپنی معیشت کو مستحکم رکھ سکیں اور کرنسی کے بحران سے بچ سکیں۔
ماہرین کے مطابق خلیجی ممالک کی جانب سے اس سہولت کی طلب عالمی مالیاتی نظام میں بڑھتے ہوئے تعاون اور بدلتے ہوئے معاشی حالات کی عکاسی کرتی ہے۔