پاکستان پر امریکی ٹیرف

امریکہ نے پاکستان سمیت 60 معیشتوں پر نئے ٹیرف تجویز کر دیے

ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان پر امریکی ٹیرف عائد کرنے کی تجویز پیش کی ہے، جس کے تحت پاکستان سمیت 60 معیشتوں سے درآمد ہونے والی بعض مصنوعات پر اضافی ڈیوٹیز لگائی جا سکتی ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی تجارت کے خدشات کے باعث تجویز کیا گیا ہے۔

امریکی تجارتی نمائندہ دفتر (USTR) کے مطابق پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جن پر 10 فیصد اضافی ٹیرف تجویز کیا گیا ہے۔ اسی فہرست میں کینیڈا، برطانیہ، یورپی یونین، میکسیکو، انڈونیشیا، ملائیشیا، بنگلہ دیش اور تائیوان بھی شامل ہیں۔

یہ تجویز سیکشن 301 کے تحت کی گئی تحقیقات کے بعد سامنے آئی، جن میں امریکہ نے بعض تجارتی شراکت داروں پر جبری مشقت سے تیار شدہ مصنوعات کی روک تھام کے لیے ناکافی اقدامات کا الزام عائد کیا۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ اس صورتحال سے امریکی صنعتوں اور کارکنوں کو غیر مساوی مقابلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

تحقیقات کے مطابق جن ممالک نے جزوی اقدامات یا منصوبے متعارف کرائے ہیں، ان پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جا سکتا ہے، جبکہ چین اور بھارت سمیت 45 دیگر معیشتوں کو 12.5 فیصد اضافی ڈیوٹی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم پاکستان پر امریکی ٹیرف ابھی صرف تجویز کی صورت میں ہیں اور ان پر حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔

یو ایس ٹی آر نے عوامی مشاورت کا عمل شروع کر دیا ہے جو 6 جولائی تک جاری رہے گا، جبکہ 7 جولائی کو باقاعدہ سماعت منعقد ہوگی۔ اس دوران مختلف ممالک، کاروباری ادارے اور دیگر متعلقہ فریق اپنی آراء پیش کر سکیں گے۔

یورپی حکام نے ان مجوزہ ٹیرف کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے ہاں پہلے ہی جبری مشقت سے تیار شدہ مصنوعات کی روک تھام کے لیے قوانین موجود ہیں۔ چین نے بھی الزامات مسترد کرتے ہوئے یکطرفہ ٹیرف اقدامات کی مخالفت کی ہے۔

پاکستان کے لیے پاکستان پر امریکی ٹیرف کا نفاذ برآمدات پر اثر ڈال سکتا ہے، تاہم ابھی حتمی فیصلہ باقی ہے۔ مجوزہ استثناؤں میں ادویات، توانائی کی مصنوعات، ہوائی جہازوں کے پرزے، نایاب دھاتیں اور بعض زرعی اجناس شامل ہیں، جس سے بعض شعبوں کو ممکنہ ریلیف مل سکتا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین