امریکا نے یوکرین، روس اور امریکا کے درمیان تکنیکی سطح پر یوکرین روس سہ فریقی مذاکرات کی تجویز دی ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات کو ممکنہ میزبان کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے 25 ستمبر کو بتایا کہ کیف اب واشنگٹن کی جانب سے مذاکرات کی تاریخ کے اعلان کا منتظر ہے۔
زیلنسکی کے مطابق مجوزہ مذاکرات سربراہانِ مملکت کی سطح کے بجائے تکنیکی سطح پر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نے متحدہ عرب امارات کو مقام کے طور پر تجویز کیا ہے اور یوکرین اس فارمیٹ کے لیے تیار ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن جنگ کے خاتمے اور سفارتی رابطوں کی بحالی کے لیے کوششیں تیز کر رہا ہے۔
یوکرین روس سہ فریقی مذاکرات امریکا کی وسیع تر سفارتی کوششوں کا حصہ ہیں۔ زیلنسکی پہلے ہی توانائی تنصیبات پر حملوں کے لیے جنگ بندی اور بحیرہ اسود کے اناج راہداری کو دوبارہ کھولنے سمیت مختلف تجاویز پر بات کر چکے ہیں۔ امریکی حکام دونوں فریقوں کے ساتھ ممکنہ کشیدگی میں کمی کے اقدامات پر بھی رابطے کر رہے ہیں۔
امریکا نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو دسمبر میں میامی میں ہونے والے جی 20 اجلاس میں شرکت کی دعوت بھی دی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے ملاقات کے بعد اس دعوت کا اعلان کیا۔ اس اقدام سے اعلیٰ سطح کے رابطوں کے لیے ایک اور ممکنہ موقع پیدا ہو سکتا ہے۔
کریملن نے ابتدا میں دعوت کا خیرمقدم کیا، تاہم بعد میں کہا کہ پیوٹن کے میامی جانے پر بات کرنا ابھی قبل از وقت ہے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کے مطابق ماسکو نے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ روس اس سے قبل جی 20 اجلاس میں پیوٹن اور زیلنسکی کی ملاقات کے امکان کو مسترد کر چکا ہے۔
متحدہ عرب امارات پہلے بھی یوکرین اور روس کے درمیان مذاکرات کے لیے ایک اہم مقام رہ چکا ہے۔ رواں سال خطے میں مذاکرات کے کئی ادوار ہوئے تھے، تاہم بعد میں وسیع تر فوجی صورتحال کے باعث مزید بات چیت متاثر ہوئی۔ روسی حکام نے بھی ابوظبی کو مستقبل کے سفارتی رابطوں کے لیے ممکنہ مقام قرار دیا ہے۔
فی الحال یوکرین روس سہ فریقی مذاکرات کی تاریخ اور وفود کی سطح طے نہیں ہوئی۔ کیف واشنگٹن کی جانب سے تاریخ کے اعلان کا انتظار کر رہا ہے، جبکہ روس کی شرکت اور اس کے وفد کی سطح بھی واضح نہیں۔ مجوزہ تکنیکی مذاکرات یوکرین اور روس کے درمیان سفارتی رابطوں کی بحالی کے لیے امریکی کوششوں کا ایک نیا مرحلہ بن سکتے ہیں۔