غلط ٹیکس کریڈٹ پر جرمانہ

غلط ٹیکس کریڈٹ کلیم کرنے والوں پر جرمانے کی تجویز منظور

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ایک اہم تجویز منظور کر لی ہے، جس کے تحت ٹیکس گوشواروں میں غلط یا زائد ٹیکس کریڈٹ کلیم کرنے والے افراد پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد ٹیکس دہندگان کو درست معلومات فراہم کرنے کا پابند بنانا اور ٹیکس چوری کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔

کمیٹی کے اجلاس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اگر کوئی شخص اپنے ٹیکس ریٹرن میں اضافی یا غلط ٹیکس کریڈٹ کا دعویٰ کرتا ہے تو اس پر اتنی ہی رقم کا جرمانہ عائد کیا جائے گا جتنی رقم غلط طور پر کلیم کی گئی ہو۔ حکام کے مطابق یہ تجویز ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے کے لیے پیش کی گئی ہے۔

اجلاس کے دوران ایف بی آر نے ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ (ATL) سے متعلق بھی متعدد تجاویز پیش کیں۔ حکام نے تجویز دی کہ مقررہ تاریخ تک ریٹرن جمع نہ کرانے والے افراد کو فوری طور پر ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ میں شامل نہ کیا جائے اور ان پر اضافی مالی ذمہ داریاں عائد کی جائیں۔

مجوزہ ترامیم کے تحت کمپنیوں کے لیے تاخیر سے ریٹرن جمع کرانے پر اے ٹی ایل میں شمولیت کا سرچارج 25 ہزار روپے سے بڑھا کر ایک لاکھ روپے کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح ایسوسی ایشن آف پرسنز (AOPs) کے لیے یہ رقم 10 ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار روپے اور انفرادی ٹیکس دہندگان کے لیے ایک ہزار روپے سے بڑھا کر 25 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ایف بی آر نے مزید سفارش کی ہے کہ جو افراد یا ادارے اے ٹی ایل سے خارج رہیں گے، انہیں اس مدت کے دوران ٹیکس ریفنڈ جاری نہیں کیا جائے گا۔ حکام کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے بروقت ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی حوصلہ افزائی ہوگی اور ٹیکس نیٹ میں بہتری آئے گی۔

دوسری جانب کمیٹی کے بعض اراکین نے ان تجاویز پر تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بیماری، خاندانی مسائل یا کسی عزیز کے انتقال جیسی غیر معمولی صورتحال میں ٹیکس دہندگان بروقت گوشوارے جمع نہیں کرا پاتے، اس لیے جرمانوں کے نفاذ سے قبل کم از کم تین ماہ کی مہلت دی جانی چاہیے۔

اجلاس میں ایف بی آر حکام نے فائلرز اور نان فائلرز سے متعلق قوانین مزید سخت کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔ مجوزہ پلان کے مطابق ایف بی آر کے نوٹس پر عمل درآمد نہ کرنے والوں پر پہلی خلاف ورزی کی صورت میں 10 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے، جبکہ بار بار خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے یہ جرمانہ 20 لاکھ روپے تک بڑھانے کی سفارش کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدامات ٹیکس وصولیوں میں اضافے اور قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی حکومتی کوششوں کا حصہ ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین