امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ ٹرمپ اسرائیل ایران تنازع کے دوران ان کی مداخلت اسرائیل کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوئی۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ان کی سفارتی کوششوں نے کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا اور خطے کو بڑے بحران سے بچانے میں مدد دی۔
ٹرمپ کے مطابق اسرائیل ان کی قیادت کا احترام کرتا ہے اور اہم معاملات میں ان کے مشوروں کو اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ضرورت پڑنے پر وہ لبنان میں مزید فوجی کشیدگی کو روکنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کر سکتے ہیں۔
انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے ساتھ اپنے تعلقات کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ قیادت میں توازن ضروری ہے تاکہ خطے میں مزید تنازعات پیدا نہ ہوں۔ ان کے مطابق دانشمندانہ فیصلے ہی استحکام کی ضمانت بن سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران سے متعلق جنگ وسیع پیمانے پر پھیلتی ہے تو اس کے عالمی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ توانائی کی منڈیوں میں بے یقینی اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ دنیا بھر میں معاشی دباؤ پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سفارتی حل کی حمایت کے ذریعے ایک ایسے ممکنہ بحران کو ٹالا گیا جو بین الاقوامی تجارت اور مالیاتی منڈیوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا تھا۔ ان کے مطابق تنازع کے پھیلاؤ کو روکنا عالمی مفاد میں ہے۔
امریکی صدر نے عالمی سیاست پر بات کرتے ہوئے شی جن پنگ اور نریندر مودی سمیت کئی عالمی رہنماؤں کی قیادت کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی معاملات میں مضبوط قیادت اہم کردار ادا کرتی ہے۔
ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری سفارتی عمل کا دفاع کرتے ہوئے اسے ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔ ان کے مطابق ٹرمپ اسرائیل ایران تنازع میں مزید کشیدگی روکنا نہ صرف خطے کے امن بلکہ عالمی معاشی استحکام کے لیے بھی ضروری ہے، اور یہی مقصد آئندہ مذاکرات کا مرکز رہے گا۔