بھارت سے آئے ہوئے سکھ یاتریوں نے پاکستان میں اپنے دورے کے دوران کرتارپور راہداری اور دیگر مذہبی مقامات پر دی گئی سہولیات اور مہمان نوازی کو سراہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مذہبی روابط بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ یاتری گرو ارجن دیو جی کی 420ویں شہادت کی تقریبات میں شرکت کے بعد واہگہ بارڈر کے ذریعے واپس روانہ ہوئے۔ اس موقع پر پاکستان اور بھارت کے سکھوں نے 14 سال بعد مشترکہ طور پر تقریبات میں شرکت کی۔
پنجاب کے وزیر برائے اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے یاتریوں کو رخصت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سکھ برادری کو خوش آمدید کہتا رہے گا اور مکمل مذہبی آزادی فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ یاتری اپنے ساتھ پاکستان کی محبت اور مہمان نوازی کی یادیں لے کر جا رہے ہیں اور اس طرح کے مواقع دونوں ممالک کے عوام کو قریب لاتے ہیں۔
انہوں نے کرتارپور راہداری کو امن اور بین المذاہب ہم آہنگی کا پل قرار دیتے ہوئے اس کی بحالی اور مزید وسعت دینے پر زور دیا۔
حکام کے مطابق یہ راہداری بھارتی علاقے ڈیرہ بابا نانک کو پاکستان کے نارووال میں واقع گردوارہ دربار صاحب سے جوڑتی ہے اور بغیر ویزا رسائی فراہم کرتی ہے۔
ای ٹی پی بی کے مطابق پاکستان میں یاتریوں کے لیے رہائش، خوراک، ٹرانسپورٹ اور سکیورٹی کے بہترین انتظامات کیے گئے۔ بھارت کے وفد کے سربراہ نے بھی انتظامات پر شکریہ ادا کیا۔
یاتریوں نے کہا کہ پاکستان آمد سے قبل انہیں خدشات تھے لیکن یہاں پہنچ کر تمام تحفظات ختم ہو گئے اور انہیں ہر جگہ عزت اور محبت ملی۔ انہوں نے مستقبل میں مذہبی سیاحت کے فروغ کی امید ظاہر کی۔