انڈس واٹرز ٹریٹی کی خلاف ورزیاں

پاکستان نے انڈس واٹرز ٹریٹی کی خلاف ورزیوں پر سلامتی کونسل سے مداخلت کا مطالبہ کیا

پاکستان نے مبینہ انڈس واٹرز ٹریٹی کی خلاف ورزیاں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے اٹھاتے ہوئے عالمی برادری سے اس معاملے کا نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔ یہ پیش رفت پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کے معاہدے سے متعلق بڑھتی ہوئی تشویش کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار کا خط سلامتی کونسل کی جون کے مہینے کی صدر لیونور زالاباتا ٹوریس کے حوالے کیا۔

خط میں پاکستان نے مؤقف اختیار کیا کہ بھارت کے بعض اقدامات 1960 کے انڈس واٹرز ٹریٹی کے اصولوں اور شقوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ دریائے چناب سے متعلق بعض منصوبے معاہدے کے تحت طے شدہ پانی کے نظام کو متاثر کر سکتے ہیں۔

پاکستانی حکام کے مطابق ان منصوبوں سے پانی کے بہاؤ اور استعمال کے موجودہ انتظامات میں تبدیلی کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ایسی صورتحال زرعی پیداوار، آبی وسائل اور ملکی معیشت پر اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

خط میں سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس معاملے کا سنجیدگی سے جائزہ لے اور صورتحال پر توجہ دے۔ پاکستان نے اس مسئلے کو علاقائی استحکام اور تعاون کے لیے اہم قرار دیا ہے۔

اس موقع پر سفیر عاصم افتخار احمد نے جنوبی ایشیا کی مجموعی صورتحال پر بھی بریفنگ دی۔ اطلاعات کے مطابق بات چیت میں جموں و کشمیر تنازع اور اس سے متعلق بین الاقوامی قراردادوں کا بھی ذکر کیا گیا۔

ماہرین کے مطابق انڈس واٹرز ٹریٹی کی خلاف ورزیاں اور پانی کے وسائل کا مسئلہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں ایک اہم موضوع رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان آبی تعاون اور معاہدے پر عملدرآمد خطے کے امن اور استحکام کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین