یمن کے حوثیوں نے جمعرات کو تقریباً 40 سعودی فضائی حملوں کی اطلاع دی ہے۔ حوثی گروپ کے مطابق یہ حملے مختلف علاقوں میں کیے گئے، جبکہ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان جھڑپیں شدت اختیار کر رہی ہیں۔
حوثی نیوز ایجنسی سبا کے مطابق سعودی فضائی حملے تعز، حدیدہ، الجوف اور مأرب کے صوبوں میں کیے گئے۔ حوثیوں نے ان حملوں کو سعودی عرب کے خلاف اپنی حالیہ کارروائیوں کے بعد تازہ حملوں کی ایک نئی لہر قرار دیا۔
دوسری جانب سعودی سول ڈیفنس حکام نے جنوب مغربی صوبے خمیس مشیط میں ہنگامی الرٹ ختم ہونے کے بعد صورتحال معمول پر آنے کا اعلان کیا۔ علاقے میں 24 گھنٹوں کے دوران یہ چوتھا الرٹ تھا۔
یہ پیش رفت حوثیوں کے حالیہ حملوں کے بعد سامنے آئی ہے، جن میں سعودی عرب کے چار جنوبی شہروں میں کم از کم 73 افراد زخمی ہوئے تھے۔ سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے کہا کہ حملوں میں قومی اثاثوں اور بنیادی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے خمیس مشیط میں ایک فضائی اڈے اور قریبی شہروں میں تیل کی تنصیبات پر حملے کیے۔ گروپ کے مطابق یہ فروری میں امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سعودی عرب پر اس کے بڑے حملوں میں شامل تھا۔
سعودی اتحاد نے کہا کہ حوثیوں نے بدھ کو بھی قومی اثاثوں اور بنیادی تنصیبات کے خلاف حملے جاری رکھے۔ تاہم، حوثیوں کے مطابق حالیہ سعودی فضائی حملے ان کی کارروائیوں کے بعد سامنے آئے ہیں۔
سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان لڑائی حالیہ مہینوں میں مزید بڑھ گئی ہے، جس سے وسیع تر تنازع کا خدشہ پیدا ہوا ہے۔ اس صورتحال نے 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی سے ہونے والی جنگ بندی کے بعد قائم نسبتاً پُرامن ماحول کے متاثر ہونے کے خدشات بھی بڑھا دیے ہیں۔