اداکارہ زارا نور عباس نے کہا ہے کہ پاکستانی سنیما کو شائقین سے حمایت کی توقع رکھنے سے پہلے معیاری اور قابلِ دید فلمیں پیش کرنا ہوں گی۔ ان کے یہ خیالات ان کی نئی فلم ’شیروز‘ کی ملک بھر کے سینما گھروں میں جمعے سے نمائش سے قبل سامنے آئے ہیں۔
اداکارہ کے مطابق صرف اس وجہ سے پاکستانی فلم دیکھنے کا تصور کہ وہ مقامی طور پر بنائی گئی ہے، اب پرانا ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شائقین سینما میں تفریح حاصل کرنے کے لیے جاتے ہیں اور فلم کے معیار کو اہمیت دیتے ہیں۔
زارا نور عباس پاکستانی سنیما کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فلم سازوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسی کہانیاں بنائیں جو لوگوں کو اپنا وقت اور پیسہ سینما پر خرچ کرنے کی وجہ دیں۔ ان کے مطابق لوگ دیگر سرگرمیوں، جیسے باہر کھانا کھانے، کے بعد فلم دیکھنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔
زارا نور عباس نے کامیاب فلمی فرنچائزز کی اہمیت پر بھی بات کی۔ انہوں نے ’اسپائیڈر مین‘ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس فرنچائز نے شائقین کے ساتھ مضبوط تعلق قائم کیا ہے اور لوگ نئی فلموں کے لیے دوبارہ سینما گھروں کا رخ کرتے ہیں۔
اداکارہ کا کہنا تھا کہ پاکستانی فلم سازوں کو بھی مقامی شائقین کا اعتماد حاصل کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق لوگوں کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ سینما کے ٹکٹ پر خرچ کیے جانے والے 1,500 سے 2,000 روپے کے عوض انہیں قابلِ قدر تفریح ملے گی۔
اپنی فلم ’شیروز‘ کے بارے میں زارا نور عباس نے شائقین سے اسے موقع دینے کی اپیل کی۔ انہوں نے بتایا کہ فلم کی ٹیم نے کچھ نئے تجربات کیے ہیں اور اس کی ہدایت کاری نئے فلم سازوں نے کی ہے، جن میں ایک ہدایت کار کا یہ پہلا فیچر فلم منصوبہ ہے۔
’شیروز‘ تین الگ کہانیوں پر مشتمل اینتھالوجی فلم ہے، جس میں مختلف حالات سے گزرنے والی تین خواتین کی کہانیاں دکھائی گئی ہیں۔ زارا نور عباس ’گیئر اپ‘ میں بم ڈسپوزل کی ماہر پولیس افسر کا کردار ادا کر رہی ہیں، جبکہ کنزا ہاشمی ’آرٹسٹ‘ اور عشنا شاہ ’پنچ‘ میں مرکزی کردار نبھا رہی ہیں۔ فلم جمعے کو ملک بھر کے سینما گھروں میں ریلیز ہوگی۔