پاکستان کی دفاعی حکمت عملی

صدر زرداری: پاکستان کا دفاع خطے کے امن کی ضمانت

صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کی دفاعی حکمت عملی خطے میں امن و استحکام کی ضامن ہے۔ یومِ تکبیر کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے پاکستان کو ایک ذمہ دار اور امن پسند ایٹمی ریاست قرار دیا۔

صدر زرداری نے کہا کہ یومِ تکبیر پاکستان کے ناقابلِ تسخیر دفاع اور قومی طاقت کی علامت ہے۔ ان کے مطابق 28 مئی 1998 نے پاکستان کو اسٹریٹجک خودمختاری عطا کی اور عالمی سطح پر ملک کے دفاعی مقام کو مضبوط بنایا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام قومی سلامتی کے تقاضوں کے تحت شروع کیا گیا تھا۔ صدر مملکت نے سائنس دانوں، مسلح افواج اور قومی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے دفاعِ وطن کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

صدر زرداری کا کہنا تھا کہ جدید جنگوں میں سائبر وارفیئر، مصنوعی ذہانت اور ڈرون ٹیکنالوجی اہم کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو بدلتے ہوئے عالمی دفاعی تقاضوں کے مطابق خود کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔

پاکستان کی دفاعی حکمت عملی کے حوالے سے صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کسی بھی ملک کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتا۔ تاہم اگر کسی قسم کی جارحیت مسلط کی گئی تو اس کا فوری اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ عالمی دباؤ اور پابندیوں کے باوجود پاکستان نے اپنے قومی مفادات اور خودمختاری کا کامیابی سے تحفظ کیا۔ ان کے مطابق قومی اتحاد، عزم اور مؤثر حکمت عملی نے ملک کو مضبوط بنایا۔

واضح رہے کہ یومِ تکبیر ہر سال 28 مئی کو منایا جاتا ہے۔ اس دن 1998 میں بلوچستان کے علاقے چاغی میں کامیاب ایٹمی دھماکے کیے گئے تھے، جس کے بعد پاکستان دنیا کی پہلی اسلامی ایٹمی طاقت بن کر ابھرا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین