صدر آصف علی زرداری 22 سے 24 اکتوبر تک جرمنی کا دورہ کریں گے، جہاں دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات اور تعاون کو فروغ دینے پر بات چیت ہوگی۔ زرداری کا دورہ جرمنی ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان اور جرمنی 2026 میں سفارتی تعلقات کے قیام کے 75 سال مکمل ہونے کا سنگ میل منا رہے ہیں۔ دورے کے دوران تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی تعاون اہم موضوعات ہوں گے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے جمعرات کو دورے کا اعلان کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے مسلسل رابطوں کا حصہ قرار دیا۔ وزارت کے مطابق سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ دونوں ممالک کے دیرینہ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ پاکستان اور جرمنی کے درمیان سفارتی، معاشی اور عالمی امور پر تعاون جاری رہا ہے۔
دورے کے دوران صدر زرداری کی جرمن صدر فرینک والٹر شٹائن مائر اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ وہ کاروباری شخصیات سے بھی ملاقات کریں گے، جن میں تجارت اور معاشی تعاون بڑھانے کے امکانات پر گفتگو ہوگی۔ تاہم، دفتر خارجہ نے دورے کے دوران کسی مخصوص معاہدے پر دستخط کے حوالے سے اعلان نہیں کیا۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بھی صدر کے ہمراہ جرمنی جا سکتے ہیں، تاہم وفد میں شامل افراد کی حتمی فہرست کی تصدیق نہیں ہوئی۔ مراد علی شاہ نے اس ممکنہ دورے پر جرمنی کے قونصل جنرل تھامس ای شلٹز کے ساتھ ایک ملاقات میں گفتگو کی تھی۔ صوبائی نمائندوں کی شرکت سے کاروباری اور معاشی مواقع پر تبادلہ خیال میں مدد مل سکتی ہے۔
🔊 PR No. 3️⃣0️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Curtain Raiser: Visit of the President of the Islamic Republic of Pakistan to the Federal Republic of Germany
🔗⬇️ https://t.co/UVnpfgyEu8
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) October 22, 2026
زرداری کا دورہ جرمنی پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور جرمن وزیر خارجہ یوہان واڈے فول کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد ہو رہا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ملاقات کی تھی۔ ان کی گفتگو میں علاقائی تنازعات اور عالمی تعاون کے امکانات زیر بحث آئے تھے۔
جرمنی نے علاقائی معاملات میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کو بھی سراہا ہے۔ جرمن دفتر خارجہ کے مطابق برلن نے علاقائی تنازعات میں پاکستان کی ثالثی کی کوششوں، خصوصاً آبنائے ہرمز اور باب المندب سے متعلق معاملات، کو قابل قدر قرار دیا۔ دونوں ممالک نے یوکرین میں امن کے لیے مذاکرات کی بحالی کی کوششیں جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔
پاکستان اور جرمنی کے درمیان معاشی تعلقات بھی حالیہ سفارتی رابطوں کا اہم حصہ رہے ہیں۔ جون میں ایک جرمن وفد نے تقریباً 30 جرمن کمپنیوں کو پاکستان لانے کا منصوبہ بتایا تھا تاکہ کاروباری مواقع تلاش کیے جا سکیں اور پاکستانی کمپنیوں کو یورپی منڈیوں سے روابط کا موقع ملے۔ صدر زرداری کا دورہ تجارت بڑھانے، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط بنانے کا ایک اور موقع فراہم کرے گا۔