ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران ایک اہم سفارتی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ امریکی انتظامیہ نے ایران کے ساتھ ممکنہ امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے پانچ سخت شرائط عائد کر دی ہیں، جنہیں پورا کیے بغیر مذاکرات میں پیش رفت ممکن نہیں ہوگی۔
میڈیا رپورٹس اور فارس نیوز ایجنسی کے مطابق واشنگٹن نے تہران کے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے جس میں ایرانی سرزمین پر مبینہ بمباری سے ہونے والے نقصانات کے بدلے مالی معاوضے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ امریکا نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی مالی ادائیگی کرنے کے لیے تیار نہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکا نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے تقریباً 400 کلوگرام افزودہ یورینیم کو کسی دوسرے مقام پر منتقل کرے۔ اس کے علاوہ ایران کی جوہری سرگرمیوں کو صرف ایک مخصوص تنصیب تک محدود رکھنے کی شرط بھی سامنے آئی ہے۔
امریکی حکام نے ایران کے منجمد اثاثوں میں صرف 25 فیصد تک نرمی کی آمادگی ظاہر کی ہے۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ مکمل اقتصادی ریلیف صرف اسی صورت میں ممکن ہوگا جب تہران خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے گا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ امریکا نے لبنان سمیت مشرق وسطیٰ کے دیگر محاذوں پر جاری تنازعات کے خاتمے کے لیے بھی مذاکرات پر زور دیا ہے۔ امریکی حکام خطے میں استحکام کو ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کا بنیادی حصہ قرار دے رہے ہیں۔
دوسری جانب بعض بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل آئندہ ہفتوں میں ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کی تیاری بھی کر رہے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے تاحال کسی سرکاری سطح پر مکمل تصدیق سامنے نہیں آئی۔