ایرانی صدرمسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پر ایران میں موجود ساڑھے 4 ہزار سال پرانے درخت کی تصویر شیئر کرکے صارفین کی توجہ حاصل کرلی۔ ایرانی صدر کی اس پوسٹ کو سوشل میڈیا پر تاریخی اور سیاسی پیغام کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
ایرانی صدر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ X (formerly Twitter) پر درخت کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ “سرو” کا یہ درخت تقریباً ساڑھے 4 ہزار سال پرانا ہے اور ایشیا کے قدیم ترین زندہ جانداروں میں شمار ہوتا ہے۔
مسعود پزشکیان نے مزید لکھا کہ یہ درخت اس سرزمین پر موجود ہے جو ہزاروں سال پہلے بھی ایران کے نام سے جانی جاتی تھی۔ ان کے اس بیان کو ایران کی قدیم تہذیب، ثقافت اور تاریخی شناخت کے اظہار کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
یہ پوسٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ماضی میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران سے متعلق سخت بیانات دیے جاچکے ہیں۔ اگرچہ ایرانی صدر نے اپنے پیغام میں کسی کا نام نہیں لیا، تاہم سوشل میڈیا صارفین اس پوسٹ کو بالواسطہ سیاسی جواب قرار دے رہے ہیں۔
Asia’s oldest living organism, the ancient Abarkuh cypress tree – at least 4500 years old – is rooted in land that was already known as Iran at the time. pic.twitter.com/6lvL9NIEOj
— Masoud Pezeshkian (@drpezeshkian) May 16, 2026
یاد رہے کہ اپنے دورِ صدارت کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے دورے میں Xi Jinping کے ہمراہ ایک تاریخی اور نایاب حکومتی باغ کا دورہ کیا تھا۔ اس موقع پر چینی صدر نے باغ میں موجود صدیوں پرانے درخت دکھاتے ہوئے بتایا تھا کہ بعض درخت ایک ہزار سال سے بھی زیادہ قدیم ہیں۔
اس دورے کے دوران ٹرمپ نے باغ کے ماحول اور تاریخی حسن کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں یہ جگہ بے حد پسند آئی۔ اسی تناظر میں ایرانی صدر کی حالیہ پوسٹ کو تاریخی ورثے اور تہذیبی طاقت کے اظہار سے جوڑا جارہا ہے۔
دوسری جانب سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ایرانی صدر کی پوسٹ پر مختلف تبصرے کیے جارہے ہیں۔ کئی صارفین کا کہنا ہے کہ قدیم درخت کی تصویر شیئر کرنے کا مقصد ایران کی ہزاروں سال پرانی تہذیب اور مضبوط تاریخی شناخت کو اجاگر کرنا تھا۔