امریکا پیٹرول قیمتوں

امریکا میں پیٹرول قیمتوں کا بحران: 81 فیصد شہری مالی دباؤ کا شکار

امریکا میں پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عوام کی مشکلات میں نمایاں اضافہ کردیا ہے۔ تازہ سروے کے مطابق امریکی شہریوں کی بڑی تعداد روزمرہ اخراجات پورے کرنے میں شدید دباؤ محسوس کررہی ہے۔

این آر پی، پی بی ایس نیوز کے مشترکہ سروے میں انکشاف ہوا کہ تقریباً 81 فیصد امریکیوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے ان کے گھریلو بجٹ پر غیرمعمولی اثر پڑا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایندھن مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ، خوراک اور دیگر ضروریات زندگی کے اخراجات بڑھ گئے ہیں۔

سروے کے مطابق صرف 19 فیصد افراد نے کہا کہ انہیں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے کوئی خاص فرق محسوس نہیں ہوا۔ ماہرین کے مطابق مہنگائی کے اس دباؤ نے متوسط اور کم آمدنی والے خاندانوں کو زیادہ متاثر کیا ہے۔

27 سے 30 اپریل کے دوران کیے گئے اس سروے میں 63 فیصد امریکیوں نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار صدر ٹرمپ کو قرار دیا۔ عوام کا کہنا ہے کہ حکومتی معاشی پالیسیوں اور عالمی کشیدگی نے تیل کی مارکیٹ کو متاثر کیا۔

دوسری جانب 37 فیصد افراد نے صدر ٹرمپ کو کم ذمہ دار قرار دیا۔ ان کے مطابق عالمی حالات، تیل کی سپلائی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی بھی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا میں جمعرات کے روز گیسولین کی اوسط قیمت 4 ڈالر 56 سینٹ فی گیلن تک پہنچ گئی، جبکہ ایران جنگ شروع ہونے سے پہلے یہی قیمت تقریباً 2 ڈالر 98 سینٹ فی گیلن تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین