وزیراعظم شہباز شریف چار روزہ سرکاری دورے پر چین روانہ ہوگئے ہیں جہاں وہ دوطرفہ تعلقات، معاشی تعاون اور سی پیک فیز 2 سے متعلق اہم ملاقاتیں کریں گے۔ یہ دورہ پاکستان اور چین کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی چین گیا ہے جس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر اطلاعات عطا تارڑ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ اور معاون خصوصی طارق فاطمی شامل ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم اپنے دورے کے پہلے مرحلے میں ہانگژو پہنچیں گے جہاں وہ ژجیانگ صوبے کے پارٹی سیکرٹری سے ملاقات کریں گے۔ ملاقات میں تجارت، ٹیکنالوجی اور صنعتی تعاون پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
دورہ چین کے دوران مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور علاقائی امن سے متعلق امور بھی زیر بحث آئیں گے۔ چین نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے خطے میں استحکام کے لیے تعاون جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔
پاکستانی اور چینی وفود سی پیک فیز 2 کے تحت بزنس فورم میں بھی شرکت کریں گے جہاں مختلف معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط متوقع ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف معروف چینی کمپنیوں کے سربراہان سے ملاقاتیں بھی کریں گے جبکہ چائنہ اکیڈمی آف ایگریکلچر سائنسز سمیت مختلف اداروں کا دورہ بھی کریں گے تاکہ جدید زرعی اور ٹیکنالوجی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔
بعد ازاں وزیراعظم بیجنگ جائیں گے جہاں وہ چینی صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی چیانگ سے ملاقات کریں گے۔ وہ پاک چین سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کی تقریب میں بھی شرکت کریں گے۔