امریکا نے امریکی اے آئی تحقیقی منصوبہ کے تحت مصنوعی ذہانت کی مدد سے سائنسی مسائل حل کرنے کے لیے 5 ارب ڈالر خرچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق یہ سرمایہ کاری صحت، تعمیرات، توانائی اور دیگر اہم شعبوں میں تحقیق کو فروغ دینے کے لیے استعمال ہوگی۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق اس منصوبے کا مقصد دائمی بیماریوں کی بنیادی وجوہات تلاش کرنا، ادویات کی دریافت کا عمل تیز کرنا اور زیادہ پائیدار تعمیراتی مواد تیار کرنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت پیچیدہ سائنسی تحقیق کو زیادہ مؤثر بنائے گی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چیف ٹیکنالوجی مشیر مائیکل کریٹسیوس نے بتایا کہ سائنس دانوں کو محکمہ توانائی کے سپر کمپیوٹرز، جدید اے آئی نظام اور خصوصی ڈیٹا سیٹس تک رسائی دی جائے گی تاکہ وہ بڑے پیمانے پر سائنسی تجربات انجام دے سکیں۔
اس منصوبے میں 15 وفاقی ادارے شریک ہوں گے، جن میں صحت، توانائی، ٹرانسپورٹ، دفاع اور داخلہ کے محکمے شامل ہیں۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ تمام اداروں کو ایک مشترکہ قومی حکمت عملی کے تحت اے آئی پر مبنی تحقیق کے لیے مربوط کیا جا رہا ہے۔
انتظامیہ وفاقی تحقیقی فنڈنگ کے نظام میں بھی تبدیلی لانا چاہتی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی رپورٹ کے مطابق مستقبل میں جامعات کے بجائے انفرادی سائنس دانوں اور مصنوعی ذہانت پر مبنی تحقیقی منصوبوں کو زیادہ معاونت دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
یہ منصوبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وفاقی تحقیقی فنڈنگ کے طریقہ کار پر قانونی اور سیاسی بحث جاری ہے۔ رواں سال ایک امریکی اپیل عدالت نے قرار دیا تھا کہ حکومت نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ کی جامعات کو دی جانے والی تحقیقی گرانٹس میں یکطرفہ کمی نہیں کر سکتی۔
حکام کا کہنا ہے کہ صحت، معدنیات اور کیمیکل سمیت امریکی حکومت کے وسیع ڈیٹا بیس جدید اے آئی ماڈلز کی تربیت میں مدد دیں گے۔ مائیکروسافٹ نے بھی اس امریکی اے آئی تحقیقی منصوبہ کی حمایت میں آئندہ تین برس کے دوران 4 کروڑ ڈالر کے اے آئی کمپیوٹنگ کریڈٹس فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔