امریکا اور چین امریکا چین اے آئی مذاکرات کے لیے ستمبر میں باضابطہ ملاقات کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، جہاں دونوں ممالک جدید مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے اثرات، سکیورٹی خدشات اور ضابطہ کار پر تبادلہ خیال کریں گے۔ ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات چینی صدر شی جن پنگ کے متوقع امریکی دورے سے قبل ہو سکتے ہیں۔
یہ مجوزہ مذاکرات مئی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی سربراہی ملاقات کا اہم نتیجہ قرار دیے جا رہے ہیں۔ اگرچہ حتمی تاریخ، مقام اور ایجنڈا ابھی طے نہیں ہوا، تاہم دونوں ممالک ابتدائی تیاریوں میں مصروف ہیں۔
ذرائع کے مطابق بات چیت میں جدید اے آئی ماڈلز کے ضابطوں، فوجی استعمال، اہم انفراسٹرکچر پر ممکنہ سائبر حملوں اور روزگار پر پڑنے والے اثرات جیسے اہم موضوعات شامل ہوں گے۔ دونوں فریق محفوظ اور ذمہ دارانہ انداز میں جدید مصنوعی ذہانت کی ترقی پر بھی گفتگو کریں گے۔
رائٹرز کے مطابق امریکی وفد کی قیادت وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کر سکتے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے دیگر نمائندوں کے نام اور اجلاس کی تفصیلات ابھی زیر غور ہیں۔ یہ صدر ٹرمپ کی موجودہ مدت کے دوران امریکا اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت پر پہلا باضابطہ مذاکراتی دور ہوگا۔
چین کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت عالمی برادری کے لیے ایک اہم چیلنج ہے اور بیجنگ دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان طے پانے والے اتفاق رائے پر عمل درآمد کے لیے واشنگٹن کے ساتھ تعاون کا خواہاں ہے۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے تاحال اس معاملے پر باضابطہ تبصرہ نہیں کیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا جدید اے آئی چپس کی چین کو برآمدات پر پابندیاں عائد کر چکا ہے اور چینی اے آئی ماڈلز میں امریکی ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی خدشات ظاہر کر رہا ہے۔ ادھر چین بھی اپنے جدید اے آئی ماڈلز تک بیرون ملک رسائی محدود کرنے پر غور کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق ابتدائی مذاکرات سے بڑے اختلافات فوری طور پر ختم ہونے کا امکان نہیں، تاہم اس سے مستقبل میں تعاون، رابطے اور جدید اے آئی ماڈلز کے لیے مشترکہ بنیادی اصول وضع کرنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ امریکا چین اے آئی مذاکرات کو عالمی مصنوعی ذہانت کے مستقبل کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔