پاکستان افغانستان سرحدی صورتحال

پاکستان کا برطانوی ایلچی کے بیان پر سخت ردعمل

پاکستان افغانستان سرحدی صورتحال پر دفتر خارجہ نے برطانوی ایلچی کے بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے یکطرفہ اور زمینی حقائق سے دور قرار دیا ہے۔ اس بیان پر سفارتی سطح پر ردعمل سامنے آیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق برطانوی نمائندے کا بیان خطے کی پیچیدہ صورتحال اور پاکستان افغانستان سرحدی صورتحال کی مکمل سمجھ کے بغیر دیا گیا، جو حقائق کی درست عکاسی نہیں کرتا۔

وزارت خارجہ نے کہا کہ مارچ 2026 میں پاکستان کی جانب سے خیرسگالی کے طور پر عارضی جنگ بندی کے باوجود افغان سرزمین سے دراندازی اور حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ان واقعات میں بلااشتعال فائرنگ اور دہشت گرد حملے شامل ہیں جن کے نتیجے میں شہری جانی نقصان بھی ہوا۔ پاکستان نے ہمیشہ تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان افغانستان سرحدی صورتحال میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف ہدفی کارروائیاں کی گئیں تاکہ مزید دراندازی کو روکا جا سکے۔

افغان حکام کی جانب سے شہری ہلاکتوں کے الزامات کو پاکستان نے بے بنیاد اور شواہد سے محروم قرار دیا اور کہا کہ غلط معلومات صورتحال کو مزید خراب کر سکتی ہیں۔

پاکستان نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ پاکستان افغانستان سرحدی صورتحال کو دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کے تناظر میں دیکھے اور غیر جانبدار مؤقف اختیار کرے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین