پاکستان کویت توانائی تعاون کے فروغ کے لیے وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے منگل کو کویت فارن پیٹرولیم ایکسپلوریشن کمپنی (KUFPEC) کے آپریشنز کے نائب صدر طارق ابراہیم سے ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان کے توانائی شعبے میں سرمایہ کاری اور باہمی تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سرکاری نشریاتی ادارے پی ٹی وی کے مطابق دونوں فریقوں نے پاکستان کے اپ اسٹریم تیل و گیس شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات کا جائزہ لیا۔ ملاقات میں نئے سرمایہ کاری مواقع اور مشترکہ منصوبوں پر بھی گفتگو ہوئی۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ کویت پاکستان کا قریبی دوست ہے اور دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے میں 50 سال پر محیط شراکت داری موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کویت توانائی تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے پرعزم ہے۔
وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک سے کویت کی کوفپیک کمپنی کے نائب صدر آپریشنز طارق ابراہیم کی ملاقات
پاکستان اور کوفپیک کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے مواقع پر تبادلہ خیال
کویت پاکستان کا قریبی دوست ہے،علی پرویز ملک
دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے میں 50 سالہ… pic.twitter.com/BdOjVOdWHP— PTV News (@PTVNewsOfficial) July 21, 2026
طارق ابراہیم نے کہا کہ KUFPEC پاکستان کے اپ اسٹریم آئل اینڈ گیس سیکٹر میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع کا جائزہ لے رہی ہے۔ انہوں نے توانائی کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ دینے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے سازگار کاروباری ماحول فراہم کرنے اور توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے پُرعزم ہے۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ملک میں ایندھن کی فراہمی کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ صنعت سے وابستہ حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ کم ذخائر، درآمدات میں تاخیر، عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی قیمتیں اور علاقائی کشیدگی سپلائی چین پر دباؤ بڑھا رہی ہیں۔
صنعتی اعداد و شمار کے مطابق پیٹرول کے ذخائر تقریباً 3 لاکھ 79 ہزار 442 ٹن رہ گئے ہیں، جو موجودہ طلب کے مطابق تقریباً 14 دن کی ضرورت پوری کر سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کویت توانائی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ملک کی طویل مدتی توانائی سلامتی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔