روبیو وانگ یی ملاقات

روبیو، وانگ یی ملاقات میں دوطرفہ اور علاقائی امور پر گفتگو

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے درمیان روبیو وانگ یی ملاقات منیلا میں آسیان وزرائے خارجہ اجلاس کے موقع پر ہوئی، جہاں مشرق وسطیٰ کی صورتحال، بحیرہ جنوبی چین اور خطے کی سلامتی سمیت اہم علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ ملاقات 33ویں آسیان ریجنل فورم سے قبل ہوئی اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس سے رواں سال کے آخر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے ممکنہ سربراہی اجلاس کی تیاری میں بھی مدد ملے گی۔ ملاقات کے آغاز پر دونوں رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو نہیں کی۔

امریکا اور چین کے تعلقات اس وقت تجارتی اختلافات، تزویراتی مسابقت اور علاقائی تنازعات کے باعث نازک مرحلے میں ہیں۔ حالیہ دنوں میں امریکی انتخابات میں مبینہ چینی مداخلت کے الزامات نے بھی دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کیا، تاہم بیجنگ ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

آسیان وزرائے خارجہ سے خطاب کرتے ہوئے مارکو روبیو نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کا ذمہ دار ایران کو قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران مذاکرات میں سنجیدگی نہیں دکھاتا تو امریکا اپنے اور اپنے اتحادیوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔

روبیو نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کو آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی کیونکہ اس کے اثرات عالمی تجارت اور جنوب مشرقی ایشیا سمیت مختلف خطوں کی سلامتی پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

اجلاس میں بحیرہ جنوبی چین کی صورتحال بھی مرکزی موضوع رہی۔ روبیو نے خطے میں آزادانہ جہاز رانی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ تجارت کو جغرافیائی سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں ہونا چاہیے۔

دوسری جانب وانگ یی نے چین اور آسیان ممالک کے درمیان اعتماد، کھلے تعاون اور شمولیتی روابط بڑھانے پر زور دیا۔ اجلاس میں بھارت، جاپان، آسٹریلیا، روس، برطانیہ، کینیڈا، جنوبی کوریا اور یورپی یونین کے نمائندے بھی شریک ہوئے، جبکہ کواڈ ممالک نے آزاد اور کھلے ہند۔بحرالکاہل خطے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین