بلوچستان آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے 19 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، جبکہ شدید مقابلے میں فورسز کے 11 جوان شہید ہوگئے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی بلوچستان کی شاہراہ این 25 پر جھاؤ کراس اور کرارو کے درمیان کی گئی۔
ذرائع کے مطابق انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر شروع کیا گیا۔ کارروائی کے دوران دہشت گردوں نے شدید مزاحمت کی، جس کے نتیجے میں دونوں جانب سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور 19 دہشت گرد مارے گئے جبکہ متعدد زخمی بھی ہوئے۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے دہشت گرد مسافروں اور مقامی شہریوں سے بھتہ وصول کرنے میں ملوث تھے۔ فورسز کی کارروائی کا مقصد شاہراہ پر امن بحال کرنا اور عوام کو دہشت گردوں سے محفوظ بنانا تھا۔
شدید مقابلے کے دوران سکیورٹی فورسز کے 11 جوان بھی وطن کے دفاع میں جان کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے شہید ہوگئے۔ حکام نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
ذرائع کے مطابق یہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے اور ان کی سرگرمیوں کو ختم کرنے کے لیے کیا گیا۔ علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن بھی جاری ہے تاکہ کسی ممکنہ خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔
سکیورٹی اداروں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوام کی جان و مال، قومی شاہراہوں اور اہم تنصیبات کا ہر قیمت پر تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔ حکام کے مطابق بلوچستان کے امن کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
تازہ بلوچستان آپریشن پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جاری حکمت عملی کا حصہ ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں امن و امان کے قیام اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ایسے آپریشن مستقبل میں بھی جاری رہیں گے۔