ایران نے ایران ایمیزون ڈیٹا سینٹر حملہ کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے بحرین میں امریکی کمپنی ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا۔ اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایرانی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے بیان میں کہا کہ حملہ کئی کروز میزائلوں کے ذریعے کیا گیا۔ اس کے مطابق کارروائی امریکی فضائی حملوں کے جواب میں کی گئی، جن کا ہدف ڈارخوین نیوکلیئر پاور پلانٹ تھا، جسے ایران نے زیرِ تعمیر غیر فوجی تنصیب قرار دیا۔
آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا کہ حملے میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر سے متعلق انفراسٹرکچر تباہ کر دیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ ایران ایمیزون ڈیٹا سینٹر حملہ امریکی کارروائی کا براہِ راست جواب تھا۔ تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
سپاه: زیرساخت مرکزی دادههای شرکت آمریکایی آمازون در بحرین با چند فروند موشک کروز مورد هجوم قرار گرفت
همچنین سامانه راداری دفاع موشکی و یک فروند جنگنده اف ۱۵ در داخل شیلتر در اردن منهدم شد
— خبرگزاری تسنیم (@Tasnimnews_Fa) July 21, 2026
واقعے کے بعد بحرین کی حکومت اور ایمیزون کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا گیا۔ کسی بھی ادارے نے نقصان یا حملے کی تصدیق نہیں کی۔ صورتحال سے متعلق مزید معلومات کا انتظار ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی حالیہ ہفتوں میں مسلسل بڑھ رہی ہے۔ آٹھ جولائی کو امریکہ نے ایرانی علاقے میں فضائی حملے کیے تھے۔ واشنگٹن کے مطابق یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز پر حملے کے جواب میں کی گئی تھی۔
اسی روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی معطل کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد ایران نے بحرین، قطر، اردن، کویت، متحدہ عرب امارات اور عمان سمیت کئی ممالک میں امریکی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری رکھا۔
ایران ایمیزون ڈیٹا سینٹر حملہ خطے میں جاری کشیدگی کے ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ واقعہ اہم انفراسٹرکچر کی سلامتی اور خلیجی خطے میں بڑھتے ہوئے خطرات پر نئے سوالات اٹھا رہا ہے۔