امریکا میں خام تیل کے ذخائر نمایاں حد تک کم ہو کر گزشتہ 45 برس کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں، جس کے بعد توانائی سکیورٹی اور عالمی تیل کی منڈی پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے خدشات بڑھنے لگے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی سپلائی کے خدشات نے ذخائر پر دباؤ میں اضافہ کیا ہے۔
بینک آف امریکا کے تازہ چارٹ کے مطابق اس وقت امریکا کے پاس خام تیل کی صرف 43 دن کی سپلائی باقی رہ گئی ہے۔ یہ سطح جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ دیکھی گئی ہے، جسے ملکی توانائی کے ذخائر کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (EIA) کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق 10 جولائی تک امریکا کے کمرشل خام تیل کے ذخائر تقریباً 409.7 ملین بیرل ریکارڈ کیے گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ تجارتی ذخائر مسلسل دباؤ کا شکار ہیں۔
دوسری جانب اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو (SPR) بھی مسلسل کم ہو رہا ہے۔ 18 جولائی تک اسٹریٹیجک ذخائر گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گئے، جو اپریل 1983 کے بعد سب سے کم سطح تصور کیے جا رہے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکا کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں۔ یہ مقدار گزشتہ چار دہائیوں کے دوران ریکارڈ ہونے والی کم ترین سطحوں میں شامل ہے۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر عالمی جغرافیائی کشیدگی برقرار رہی یا سپلائی میں مزید رکاوٹیں پیدا ہوئیں تو خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ، توانائی کی لاگت میں اضافے اور عالمی معیشت پر مزید دباؤ کا امکان بڑھ سکتا ہے۔ تاہم، مستقبل کی صورتحال کا انحصار عالمی منڈی، پیداوار اور سفارتی پیش رفت پر ہوگا۔