گلگت بلتستان سولر منصوبہ ایک اہم پیش رفت کی جانب بڑھ گیا ہے، جہاں وزیراعظم شہباز شریف نے 100 میگاواٹ سولر پاور منصوبے پر جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے منصوبے کی بروقت تکمیل اور مکمل شفافیت یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ سستی، صاف اور پائیدار توانائی پاکستان کی قومی توانائی پالیسی کا بنیادی حصہ ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ 100 میگاواٹ گلگت بلتستان سولر منصوبہ وفاقی حکومت کی جانب سے علاقے کے عوام کے لیے ایک اہم تحفہ ہے۔ انہوں نے پاور ڈویژن کو مقررہ مدت کے اندر منصوبہ مکمل کرنے اور تمام مراحل میں اعلیٰ معیار برقرار رکھنے کی ہدایت دی۔
شہباز شریف نے خریداری کے عمل میں مکمل شفافیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ منصوبے سے متعلق تمام ادائیگیاں صرف آزاد تھرڈ پارٹی تصدیق کے بعد کی جائیں تاکہ عوامی وسائل کا مؤثر اور شفاف استعمال یقینی بنایا جا سکے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ 18 میگاواٹ صلاحیت کے روف ٹاپ سولر سسٹمز بیٹری اسٹوریج کے ساتھ 499 سرکاری عمارتوں پر دسمبر 2026 تک نصب کیے جائیں گے۔ اس اقدام سے سرکاری اداروں میں بجلی کی فراہمی بہتر ہوگی اور توانائی کے اخراجات میں کمی آئے گی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ 82 میگاواٹ یوٹیلٹی اسکیل سولر منصوبے کا پی سی ون منظوری کے لیے ایکنک (ECNEC) کو ارسال کر دیا گیا ہے۔ منظوری کے بعد یہ منصوبہ گلگت بلتستان میں قابلِ تجدید توانائی کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کرے گا۔
حکام کے مطابق 82 میگاواٹ منصوبے سے تقریباً 13 لاکھ افراد مستفید ہوں گے۔ منصوبے کی تکمیل سے بجلی کی فراہمی بہتر ہوگی، توانائی کی قلت میں کمی آئے گی اور علاقے میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔
اجلاس میں وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ ملک میں قابلِ تجدید توانائی کے فروغ اور توانائی کے شعبے میں پائیدار اصلاحات کی جانب ایک اہم قدم ہے۔