آبنائے ہرمز میں ٹینکر حملے کے بعد عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل پر خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ تازہ حملوں کے بعد کم از کم چار آئل اور گیس ٹینکرز نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے بجائے اپنا راستہ تبدیل کر لیا، جس سے عالمی شپنگ کمپنیوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق منگل کو ایک قطری ایل این جی ٹینکر اور سعودی پرچم بردار خام تیل بردار جہاز کو آبنائے ہرمز کے قریب نقصان پہنچا۔ ان واقعات کے بعد بحری حکام نے تجارتی جہازوں کے لیے خطرے کی سطح "انتہائی شدید” قرار دے دی۔
جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے اداروں کے مطابق قطر انرجی کے زیر انتظام تین ایل این جی ٹینکرز الغاریہ، دہیل اور الرویس قطر کے راس لفان ایکسپورٹ ٹرمینل کی جانب جا رہے تھے، تاہم سکیورٹی خدشات کے باعث انہوں نے راستہ بدل لیا۔ یہ تینوں جہاز خالی تھے اور ایل این جی لوڈ کرنے جا رہے تھے۔
اسی دوران دو ملین بیرل کویتی خام تیل لے جانے والا بھارتی پرچم بردار آئل ٹینکر بھی آبنائے ہرمز کے قریب عمان کے ساحل سے واپس مڑ گیا۔ جہاز نے گزشتہ ہفتے اپنا کارگو لوڈ کیا تھا اور خلیج سے گزرنے کی تیاری کر رہا تھا۔
شپنگ تجزیہ کاروں کے مطابق راس لفان کے قریب 10 سے زائد خالی جہاز کارگو لوڈ ہونے کے انتظار میں موجود ہیں، جبکہ قطر انرجی اور ایڈنوک کے زیر انتظام 50 سے زائد جہاز خلیجی خطے، بحرِ ہند اور دیگر بحری راستوں میں موجود ہیں۔ بعض جہازوں نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اپنے ٹریکنگ سگنلز بھی عارضی طور پر بند کر رکھے ہیں۔
اگرچہ بعض بڑے خام تیل بردار جہاز کامیابی سے آبنائے ہرمز عبور کرنے میں کامیاب رہے، تاہم تازہ حملوں نے اس اہم بحری گزرگاہ کی سلامتی پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں شپنگ کمپنیاں غیر معمولی احتیاط اختیار کر رہی ہیں۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو عالمی تیل کی قیمتوں، بحری تجارت اور توانائی کی فراہمی پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔