راہول گاندھی احتجاج اس وقت خبروں کا مرکز بن گیا جب کانگریس رہنماؤں نے منگل کو نئی دہلی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ کے باہر مظاہرہ کیا۔ احتجاج میں پریانکا گاندھی اور پارٹی کے دیگر ارکان بھی شریک تھے۔
راہول گاندھی نے کہا کہ یہ مارچ وزیراعظم مودی سے طلبہ کے خلاف مبینہ پولیس تشدد پر جواب طلب کرنے کے لیے کیا گیا۔ انہوں نے یہ بیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کیا۔
راہول گاندھی احتجاج میں کانگریس کے متعدد رہنما، ارکان پارلیمنٹ اور کارکن شریک ہوئے۔ پارٹی کی جانب سے جاری ویڈیوز میں مظاہرین کو مودی کی رہائش گاہ کی جانب مارچ کرتے اور نعرے لگاتے دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ احتجاج پیر کو دہلی میں نوجوان مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے بعد سامنے آیا۔ اپوزیشن نے ان واقعات پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور واقعے کی وضاحت کا مطالبہ کیا۔
رپورٹس کے مطابق حکام نے پارلیمنٹ کی جانب ایک اور مجوزہ مارچ پر بھی پابندی عائد کر رکھی تھی۔ دارالحکومت میں اہم سرکاری مقامات پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔
خبر لکھے جانے تک بھارتی حکومت کی جانب سے راہول گاندھی کے الزامات پر کوئی تفصیلی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا تھا۔ حکام صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے تھے۔
راہول گاندھی احتجاج نے بھارت میں سیاسی کشیدگی کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات آئندہ دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔