وفاقی سرکاری ملازمتوں کے خواہشمند امیدواروں کی تعداد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ سی ایس ایس امتحان سے متعلق فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی) کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق 2022 سے 2025 کے دوران رجسٹرڈ امیدواروں کی تعداد تقریباً 48 فیصد کم ہوگئی، تاہم دستیاب نشستوں کے مقابلے میں مقابلہ بدستور انتہائی سخت ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2022 میں سی ایس ایس امتحان کے لیے 35 ہزار 59 امیدواروں نے رجسٹریشن کرائی تھی، جبکہ 2025 میں یہ تعداد کم ہو کر 18 ہزار 139 رہ گئی۔ اسی عرصے میں امتحان میں شریک ہونے والے امیدوار بھی 20 ہزار 262 سے کم ہو کر 12 ہزار 792 تک محدود ہوگئے۔ اس کے ساتھ منتخب امیدواروں کی تعداد بھی 239 سے کم ہو کر صرف 170 رہ گئی۔
ایف پی ایس سی کی رپورٹ کے مطابق صرف سی ایس ایس ہی نہیں بلکہ وفاقی حکومت کی عمومی بھرتیوں میں بھی درخواست گزاروں کی تعداد میں واضح کمی دیکھی گئی۔ 2023 میں جنرل ریکروٹمنٹ کے لیے رجسٹریشن 4 لاکھ 36 ہزار 757 کی بلند ترین سطح پر تھی، جو 2025 میں کم ہو کر ایک لاکھ 96 ہزار 193 رہ گئی، یعنی صرف دو برس میں 55 فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی۔
عمومی بھرتیوں کے امتحانات میں شریک ہونے والے امیدواروں کی تعداد بھی 2023 کے ایک لاکھ 99 ہزار 234 سے کم ہو کر 2025 میں 80 ہزار 633 رہ گئی۔ اس کے باوجود کامیاب امیدواروں کی تعداد محدود رہی۔ 2025 میں تقریباً دو لاکھ رجسٹرڈ امیدواروں میں سے صرف 3 ہزار 5 امیدواروں کی سفارش کی گئی، جبکہ 2023 میں چار لاکھ سے زائد درخواستوں کے مقابلے میں صرف ایک ہزار 436 امیدوار کامیاب قرار پائے تھے۔
رپورٹ کے مطابق سی ایس ایس امتحان میں رجسٹریشن اور امتحان میں شرکت کے تناسب میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ 2023 میں رجسٹرڈ امیدواروں میں سے تقریباً 45 فیصد امتحان میں شریک ہوئے تھے، جبکہ 2025 میں یہ شرح بڑھ کر تقریباً 71 فیصد ہوگئی۔ اسی طرح جنرل ریکروٹمنٹ میں امتحان میں شرکت کی شرح 2022 کے تقریباً 32 فیصد سے بڑھ کر 2025 میں 41 فیصد تک پہنچ گئی، اگرچہ رجسٹرڈ امیدواروں کی بڑی تعداد اب بھی امتحانات میں شریک نہیں ہوتی۔
ماہرین کے مطابق درخواست گزاروں کی تعداد میں کمی کے باوجود وفاقی سرکاری ملازمتوں کا حصول اب بھی انتہائی مشکل ہے کیونکہ آسامیوں کے مقابلے میں امیدواروں کی تعداد کئی گنا زیادہ ہے۔ 2025 میں تقریباً 18 ہزار امیدوار صرف 170 سی ایس ایس نشستوں کے لیے مقابلے میں تھے، جبکہ عمومی بھرتیوں میں تقریباً دو لاکھ درخواست گزار صرف 3 ہزار 5 سفارشات کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل رہے، جو سرکاری ملازمتوں میں بڑھتے ہوئے سخت مقابلے کی عکاسی کرتا ہے۔