وفاقی کابینہ نے حج پالیسی اور پلان 2027-2030 کی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد حج انتظامات کو جدید خطوط پر استوار کرنا، شفافیت کو فروغ دینا اور عازمینِ حج کو بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے۔
کابینہ کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ نئی پالیسی کے تحت حج کی سعادت حاصل کرنے کے خواہش مند افراد 2030 تک کسی بھی سال کے لیے پیشگی رجسٹریشن کروا سکیں گے۔ اس کے ساتھ ایک ترجیحی ویٹنگ لسٹ بھی مرتب کی جائے گی تاکہ درخواست دہندگان کو منظم اور شفاف انداز میں موقع فراہم کیا جا سکے۔
حکومت نے شرعی اصولوں کے مطابق ایک خصوصی سیونگ اسکیم متعارف کرانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اس اسکیم کے ذریعے شہری مستقبل میں حج کے اخراجات کے لیے مرحلہ وار بچت کر سکیں گے، جس سے زیادہ افراد کے لیے حج کی ادائیگی آسان بن سکے گی۔
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ حج کے تمام انتظامی امور کو مرحلہ وار مکمل طور پر ڈیجیٹل کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام سے درخواستوں، ادائیگیوں اور دیگر انتظامات کے عمل میں شفافیت اور سہولت پیدا ہوگی جبکہ عازمین کو بہتر خدمات فراہم کی جا سکیں گی۔
وفاقی کابینہ نے ہدایت کی کہ معاونینِ حج کی تقرری مکمل شفافیت اور خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر کی جائے۔ اس کے علاوہ سرکاری اور نجی حج اسکیموں کے انتظامات کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کو بھی یقینی بنایا جائے تاکہ خدمات کے معیار کو برقرار رکھا جا سکے۔
حکومتی حکام کے مطابق نئی حج پالیسی مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے اور اس سے حج انتظامات کو مزید مؤثر، شفاف اور عوام دوست بنانے میں مدد ملے گی۔